تعارف

:تاسیس
١٩٤٧ء کو جب حضرت شیخ الحدیث مولانا عبدالحق دارالعلوم دیوبند سے ایام تعطیلات میں اپنے گائوں اکوڑہ خٹک تشریف لائے ‘ توا گست ١٩٤٧ء کو تقسیم ہند کا مسئلہ پیش آیا جس کی وجہ سے آپ کو دارالعلوم دیوبند واپس جانا مشکل ہوگیا’
شیخ الاسلام حضرت مدنی نے حکومتی سطح پر سعی بلیغ کرکے سفری تحفظات فراہم کرنے کی ذمہ داری بھی قبول فرمالی تھی لیکن حضرت شیخ الحدیث کے والد گرامی آپ کو ان نامساعد حالات میں دیوبند بھیجنے پر آمادہ نہ تھے’ چونکہ دارالعلوم دیوبند میں ایک کامیاب مدرس کی حیثیت سے آپ کی شناخت ہوچکی تھی۔اس لئے دور دراز علاقوں سے تعلق رکھنے والے طلباء نے اکوڑہ خٹک کا رخ کیا چنانچہ حضرت شیخ الحدیث نے ذیقعدہ ١٣٦٦ھ بمطابق ستمبر ١٩٤٧ء کو اپنی رہائش گاہ کے قریب ایک چھوٹی سی مسجد میں شہتوت کے درخت کے سایہ تلے درس و تدریس کا آغاز فرمایا اور یہی جامعہ دارالعلوم حقانیہ کا تاسیس سال تھا۔
مہتمم اول: ستمبر ١٩٤٧ء سے لے کر ٧ ستمبر ١٩٨٨ء تک حضرت شیخ الحدیث مولانا عبدالحق جامعہ کے مہتمم رہے۔
مہتمم ثانی: حضرت شیخ الحدیث کی وفات کے بعد آپ کے خلف الرشید حضرت مولانا سمیع الحق صاحب٧ ستمبر ١٩٨٨ء کو جامعہ دارالعلوم حقانیہ اکوڑہ خٹک کے مہتمم منتخب ہوئے’ 2 نومبر 2018ء کو مولانا سمیع الحق صاحب کودشمنان دین نے اسلام آباد میں واقع گھر میں گھس کر چاقوکے پے درپے وار کر کے شہید کردیا  ۔
مہتمم ثالث : حضرت شیخ الحدیث کی شہادت کے بعد آپ کے حضرت شیخ الحدیث عبد الحق رحمہ اللہ کےدوسرے خلف الرشید حضرت مولانا انوار الحق صاحب4نومبر 2018 کو جامعہ دارالعلوم حقانیہ اکوڑہ خٹک کے مہتمم منتخب ہوئے

نائب مہتمم: اور نائب مہتمم کی حیثیت سے حضرت شیخ الحدیث مولانا سمیع الحق شہید رحمہ اللہ کے خلف الرشید حضرت مولانا حامد الحق صاحب کا انتخاب ہوا۔ چنانچہ آپ مدظلہ جامعہ کے استاد ہونے کے ساتھ نائب مہتمم کے فرائض انجام دے رہے ہیں۔
مجلس شوریٰ اور آئین: جامعہ کے نظم و نسق اورانتظام و انصرام چلانے کیلئے اول دن سے مجلس شوریٰ کی تشکیل ہوچکی تھی جو اس وقت پانچ روشن ضمیر افراد پر مشتمل تھی جن کے اسماء حسب ذیل ہیں
(١) شیخ الحدیث حضرت مولانا عبدالحق (٢) الحاج محمد یوسف صاحب (٣) الحاج سید نوربادشاہ صاحب (٤) حاجی غلام محمد صاحب (٥) اورملک امیر الہی صاحب
اور آج بھی جامعہ میں ایک بااختیار مجلس شوریٰ قائم ہے۔ جوکئی نفوس پر مشتمل ہے۔ بجٹ اور دیگر اہم امور کے بارے میں اس مجلس شوریٰ سے باقاعدہ منظوری لی جاتی ہے’ اور تمام تر انتظامات وغیرہ ایک آئین کے ماتحت ہوتے ہیں جس کی منظوری مجلس شوریٰ نے ٤ جمادی الاول ١٣٨١ھ بمطابق ١٥ اکتوبر ١٩٦١ء کے اجلاس میں دی تھی ۔
جامعہ حقانیہ اور وفاق المدارس : جامعہ دارالعلوم حقانیہ وفاق المدارس العربیہ پاکستان میں شامل مدارس اور جامعات میں ایک بنیادی’ فعال اورمؤسس ادارہ ہے۔اس جامعہ نے وفاق المدارس کی تاسیس میں بنیادی کردار ادا کیا ہے۔
جامعہ کی سند کا معادلہ: جامعہ کی سندکا جامعہ الازھر الشریف مصر’ جامعہ قاہرہ مصراور پاکستان بھر کے دوسرے جامعات کے ساتھ معادلہ ہوچکا ہے۔
رجسٹریشن: اس کے ساتھ ساتھ جامعہ دارالعلوم حقانیہ آئین پاکستان کے دفعہ ٥٠١۔SRO/سی نمبر ٧١(٣٦) سی۔ٹی۔پی ٥٥١ کے تحت رجسٹرڈ ہے۔ اس لئے حکومت ِ پاکستان کی طرف سے جامعہ دارالعلوم حقانیہ کودیا جانے والا چندہ انکم ٹیکس سے مستثنیٰ قرار دیا گیا ہے۔ اس کے علاوہ دارالعلوم کے حساب و کتاب کو صاف اور منضبط رکھنے کے لئے ہرسال تمام حساب و کتاب ‘ رسیدات اور ادائیگی حسابات کے بل راولپنڈی میں آڈٹ کرائے جاتے ہیں اور آڈیٹرز رپورٹ ہرسال مجلس شوریٰ کے سامنے پیش کی جاتی ہے۔

طلباء کی تعداد:
اس وقت جامع دارالعلوم حقانیہ اکوڑہ خٹک میں ٤ ہزار سے زائد طلباء زیر تعلیم ہیں۔
حقانیہ دیوبندثانی وازھر پاکستان:
ام المدارس دارالعلوم دیوبند کے مہتمم حکم الاسلام مولانا قاری محمد طیب جب دارالعلوم حقانیہ تشریف لائے تو یہاں کے تعلیمی ‘ تدریسی نظام کو دیکھ کر فرمایا : میں یہ کہنے میں حق بجانب ہوں گا کہ دارالعلوم حقانیہ اکوڑہ خٹک دیوبند ثانی ہے۔ شیخ احمد عبدالغنی محمد مصطفی ‘ عضوبعثة الازھر جب جامعہ کو تشریف لائے تو فرمایا : جامعہ دارالعلوم حقانیہ جو علم کا قلعہ ہے اس کی ازھر پاکستان کی حیثیت سے شہرت ہوچکی ہے۔ اور شیخ محمد عبدالمغیث الواعظ العام بالقوات المسلمہ المصریہ ہے۔ جب جامعہ کی زیارت کے لئے آئے تو فرمایا میں یقین رکھتا ہوں کہ دارالعلوم حقانیہ جامعہ ازھر سے فاتقی ہے جس کی شہرت اس زمانہ میں اکناف عالم میں پھیل چکی ہے۔
جامعہ دارالعلوم حقانیہ میں قبولیت کی شرائط
جامعہ ہر اس طالب علم کو داخلہ دیتا ہے جس میں درج ذیل شرائط پائی جائیں۔
١۔ وہ طالبعلم مسلمان ہونے کے ساتھ ساتھ اسلامی احکامات پر عمل پیرا ہو ۔
٢۔ وہ جامعہ کے اصول و ضوابط اور قانون کا احترام کرتا ہو۔
٣۔ اس کو عربی’ پشتو’ فارسی یا اردو پر عبور حاصل ہو۔
٤۔ اس نے عصری درسگاہ میں مڈل تک عصری تعلیم حاصل کی ہو۔
٥۔ اسی طرح اس کی عمر پندرہ (١٥) سال سے کم نہ ہو۔
٦۔ اس کی وضع قطع اسلامی تعلیمات کے مطابق ہو۔
٧۔ وہ غیر اسلامی سیاست سے وابستہ نہ ہو۔
٨۔ اس طرح اس نے ناظرہ سے قرآن کریم پڑھا ہو۔

اپنا تبصرہ بھیجیں