ضوابط و ہدایات برائے داخلہ

داخلہ وغیرہ سے متعلق چند عمومی اُمور:

۱) شعبۂ درسِ نظامی میں داخلہ کاروائی کا آغاز عید الفطر کی تعطیلات کے بعد شوال کے دوسرے ہفتہ میں ہوتا ہے، اس لئے داخلہ کے خواہش مند حضرات دوسرے ہفتہ میں داخلہ کاروائی کے لئے رجوع فرمائیں۔ (حتمی تاریخِ داخلہ کا اعلان رمضان میں کردیا جاتا ہے۔)
(۲) ان جدید طلبہ کو تحریری امتحانِ داخلہ میں شرکت کا اہل سمجھا جاتا ہے جن کے سابقہ اکثر وفاقی سالوں کے نتائج ممتاز یا کم از کم ۷۰ فیصد ہوں۔(۳) داخلہ کمیٹی ہر جدید امیدوار کا پہلے تحریری امتحان لیتی ہے، پھراس کے بعد امیدوار کی استعداد سامنے آجانے پر :

(الف) داخلہ دینے یا نہ دینے، (ب) مطلوبہ درجہ میں داخلہ منظور کرنے (ج) یا کوئی اور درجہ تجویز کرنےکا فیصلہ کیا جاتا ہے۔

(۴) ہر درجہ کے لئے طلبہ کی تعداد متعین ہے، اسی کے مطابق داخلے کیے جاتے ہیں
(۵) اگر دارالطلبہ میں رہائش کی گنجائش نہ ہو یا رہائش کا کوئی مانع موجود ہو یا کوئی مصلحت سامنے ہو، تو ان مخصوص حالات میں طالبِ علم کو داخلہ بلارہائش دیا جاسکے گا۔
(۶) کسی بھی درجہ میں داخلہ کے لئے مطلوبہ درجہ سے پچھلے درجہ کی تمام ’’معیاری کتب‘‘ کا امتحان لیا جاتا ہے۔
(۷) مرحلہ متوسطہ کا تعلیمی دورانیہ پانچ سال کا ہے اور درجۂِ اُولیٰ سے دورۂِ حدیث تک کا تعلیمی دورانیہ آٹھ سال کا ہے۔
(۸)مرحلہ متوسطہ کے بعد مرحلہ ثانویہ عامہ سالِ اوّل (درجہ اُولیٰ) سے لے کر مرحلۂ عالمیہ سالِ دوم (دورۂ حدیث) کا آٹھ سالہ دورانیہ صرف درسِ نظامی میں شامل دینی و عربی علوم و فنون کے لئے مختص ہے۔
(9) داخلہ کے تمام خواہشمند حضرات کے لئے اپنی سابقہ تعلیمی اسناد اور کشف الدرجات ساتھ لانا ضروری ہے۔
(10) جامعہ میں زیرِ تعلیم رہتے ہوئے عصری مضامین کے بورڈ وغیرہ سے امتحانات کے لئے باقاعدہ اجازت حاصل کرنا ضروری ہے۔
(11) تصویری موبائل، ریڈیو، ٹیپ ریکارڈ، اور ایسی دیگر تمام چیزیں ساتھ رکھنے کی ممانعت ہے، جو تحصیلِ علم میں مانع ہوں۔
(12) قدیم و جدید طلبہ کیلئے داخلے کی متعینہ تاریخوں کے بعد آنے والے طالب علم کو داخلہ دیا جانا یقینی نہیں ہوگا۔

داخلہ سے متعلق شرائط :

(۱) مرحلۂِ متوسطہ کے سالِ اوّل میں صرف ایسے درخواست گزاروں کو امتحانِ داخلہ میں شامل کیا جاتا ہے، جو پنجم جماعت تک ابتدائی تعلیم کی عمدہ استعداد رکھتے ہوں یا حافظ قرآن ہوں اور چہارم جماعت کے معیار پر ریاضی، اُردو اور انگریزی سے واقف ہوں۔
(۲) مرحلہ متوسطہ کے سال اول میں ۱۵ سال سے زائد عمر کے امیدوارکو داخلہ نہ مل سکے گا الا یہ کہ وہ امیدوار حافظ قرآن یا میٹرک پاس ہو یا دارالعلوم کے شعبہ ’’مدرسہ ابتدائیہ و ثانویہ‘‘ سے فارغ شدہ ہو تو اس کے لئے ان درجات میں ۱۸ سال کی عمر تک رعایت کی جاسکتی گی۔ ۱۸ سال سے زائد عمر ہونے کی صورت میں خصوصی حالات کے پیش نظر داخلہ کا فیصلہ داخلہ کمیٹی کی صوابدید پر موقوف ہوگا۔
(۳) اگر کوئی طالب علم درجۂِ اُولیٰ میں داخلے کی خواہش رکھتا ہو تو اس کے لئے کم از کم مڈل کی استعداد کا حامل ہونا ضروری ہے، بصورتِ دیگر ایسے امیدوار کے لئے مرحلۂِ متوسطہ  میں سے (حسبِ استعداد) کوئی سال تجویز ہوسکے گا۔
(۴)  کسی بھی درجہ میں داخلہ کے لئے اس سے پچھلے درجہ کی تمام ’’معیاری کتب‘‘ کا امتحان لیا جاتا ہے۔مثلاًدرجۂ ثانیہ میں داخلہ کے لئے درجۂ اُولیٰ کی معیاری کتب کا امتحان لیا جائے گا۔ درجہ وار معیاری کتب و مضامین حسبِ ذیل ہیں:


موانع داخلہ :

(۱) جس طالب علم کے سر کے بال یا داڑھی اور وضع قطع شرعی لحاظ سے مشتبہ ہو اس کو داخلہ فارم نہیں دیا جائے گا۔
(۲) جس طالب علم کے بارے میں ’’مسلک علماء دیوبند‘‘ میں شکوک و شبہات پیدا کرنے کا یقینی علم ہوجائے گا اس کو داخلہ نہیں دیا جائے گا۔
نیز جس طالب علم کے بارے میں بدعقیدگی یا کسی سیاسی جماعت سے عملی تعلق کا شبہ ہوگا جدید ہونے کی صورت میں اس کا داخلہ نہیں ہوگا اور قدیم ہونے کی صورت میں بھی اس کا داخلہ متعلقہ اساتذہ اور قیم صاحبان کی رپورٹ پر موقوف رہے گا۔
(۳) سالانہ امتحانات سے کلی یا جزوی طور پر بلا اجازت غیر حاضر رہنے والے طالب علم کو داخلہ نہیں دیا جائے گا۔
(۴) جو طلبہ خلافِ شرع امور کے مرتکب رہے ہوں یا ان سے جامعہ دارالعلوم کراچی کے کسی ضابطہ کی خلاف ورزی کی شکایت رہی ہو اور تنبیہ کے باوجود انہوں نے پرواہ نہ کی ہو ان کو داخلہ فارم نہیں دیا جائے گا، الا یہ کہ متعلقہ اکثر اساتذہ اور قیم صاحبان ان کی کوئی خصوصی سفارش کریں اور آئندہ کیلئے اصلاح کی امید دلائیں۔

امتحانات :
تعلیمی سال کے دوران تین امتحانات لئے جاتے ہیں: عموماً سہماہی امتحان ماہِ صفر کے پہلے ہفتہ میں، ششماہی امتحان جمادی الاولیٰ کے پہلے ہفتہ میں اور سالانہ امتحان شعبان کے پہلے عشرے میں ہوتا ہے۔

شرائط ِ رہائش :
جامعہ میں اقامتی سہولتیں مرحلۂ متوسطہ، درسِ نظامی اور تخصصات کے طلبہ کو مہیا کی جاتی ہیں۔ رہائش کے لئے کم از کم عمر ۱۴ سال ہونا لازمی ہے، ۱۴ سال سے کم عمر والے طلبہ اوردرجۂ حفظ کے طلبہ کے لئے مصلحتاً قیام کا انتظام نہیں رکھا گیا، البتہ ایسے طلبہ بغیر رہائش کے مدرسہ ابتدائیہ و ثانویہ (پرائمری و سیکنڈری اسکول) اور شعبہ تحفیظ القرآن میں داخلہ لے سکتے ہیں۔
سہولیات :
مرحلۂ متوسطہ اور درسِ نظامی کے طالبِ علم کے لئے جامعہ  میں تعلیم کی کوئی فیس نہیں ہے، نیز ان طلبہ کو رہائش،  طعام، ابتدائی طبی امداد اور کسی حد تک علاج و معالجہ کی سہولیات جامعہ کی طرف سے بلا معاوضہ مہیا کی جاتی ہیں، البتہ اگر کوئی طالبِ علم صاحبِ استطاعت ہے تو وہ رہائش کرایہ ادا کرکے اور کھانا خرید کر حاصل کرسکتا ہے۔