آل پارٹیز تحفظ ختم نبوت کانفرنس

____________________
٥۔اگست (اسلام آباد ) قومی اورملی اعتبار سے سیاسی ،اقتصادی اوردینی واعتقادی مسائل میں بری طرح گھری ہوئی ملت اسلامیہ بالخصوص پاکستانی قوم کے اعصاب کو شل کردینے اور رگوں میں خون منجمد کردینے والی صورتحال وادی کشمیر اور وہاں کے مظلوموں پر خوف وہراس اور ظلم و ستم کو بڑھتے ہوئے بھارتی حکومت کے جارحانہ عزائم ہیں، پوری وادی کو عقوبت خانہ میں تبدیل کردیا گیا ہے، قیادت،پابند سلاسل ہے اور حریت رہنما جناب یاسین ملک کی شہادت سے بھارتی فوج اورحکومت کے عزائم کی نشاندہی ہورہی ہے، جب سے امریکی صدر نے کشمیر کے مسئلہ پر ثالثی کی پیشکش کی ہے بھارت خونخوار ہوگیا ہے، گزشتہ چوبیس گھنٹوں میں بھارت کی طرف سے وادی میں کئے گئے اقدامات نے آئندہ چوبیس گھنٹوں کو خطرے کا نشان بنادیا ہے، اجلاس متفقہ طورپر حریت رہنما سید علی گیلانی کی دردبھری اپیل کی تائید کرتے ہوئے عالمی برادری بالخصوص امت مسلمہ سے اپیل کرتا ہے کہ بھارتی خونخواردرندوں کی طرف سے بڑے اور تباہ کن انسانی المیہ کے رونما ہونے سے پہلے پہلے بھارت کو جارحیت سے روکنے کے لئے عملی اقدامات کئے جائیں ،دوسری طرف امریکی صدر سے قادیانی نمائندوں کی ملاقات اورامریکی صدر کی طرف سے پاکستان میں قادیانیوں کے مسائل کو حل کرانے کے وعدے کو یہ اجلاس پاکستان اور عالم اسلام کے اعتقادی اورآئینی وسیاسی معاملات میں امریکی صدر کی کھلم کھلا مداخلت قرار دیتے ہوئے اسے مسترد کرتا ہے ،آئین پاکستان سے بغاوت پر آمادہ اور امت مسلمہ کے متفقہ عقیدہ وفیصلہ کو قبول نہ کرنے والی قادیانی اقلیت اوراس کی پشت پناہ نام نہاد عالمی برادری پر یہ اجلاس واضح کرتاہے کہ امت اپنے اعتقادی فیصلوں اورپاکستانی قوم اپنے آئین کی عزت و آبرو سے کھیلنے والوں کا ڈٹ کر مقابلہ کرنے کا عزم رکھتی ہے،آئین پاکستان میں متعین قادیانیوں کی حیثیت ،قانون تحفظ ناموس رسالت اور آئین میں شامل اسلامی دفعات کا ہر قیمت پر تحفظ کیا جائے گا، اوراس میں کسی طرح کی تبدیلی ،منسوخی یا انہیں غیرموثر بنانے کی ہر کوشش ناکام ہوگی،قوم اور ملت اس کی اجازت نہیں دے سکتی۔
آل پارٹیز ختم نبوت کانفرنس کا یہ اجلاس افغانستان میں جاری خونریزی کو خطے کے لئے انتہائی تباہ کن قرار دیتا ہے اور افغان طالبان کی طرف سے تمام فریقوں اور براہ راست امریکہ سے مذاکرات کو خوش آئندقرار دیتے ہوئے خیرمقدم کرتا ہے ،اسے طالبان کی ایمانی بصیرت اوران کے موقف کی فتح کا درجہ دیتا ہے، اور عالمی برادری ،افغان قوم اور مذاکرات میں سہولت کاری کا کردار اداکرنے والی پاکستانی فوج اور حکومت کے سربراہوں سے مطالبہ کرتا ہے کہ خطے میں پائیدار اور مستقل قیام امن کے لئے مثبت اور افغانستان میں آباد غیرت مند مسلمانوں کے جذبات کوپیش نظر رکھا جائے، امریکی اور نیٹو فوجوں کے انخلاء کے بعد افغان قوم کو اپنی حکومت ،نظام اور طرز سیاست کا خود فیصلہ کرنے کا موقع فراہم کیا جائے۔
آل پارٹیز ختم نبوت کانفرنس میں شامل تمام مندوبین نے جہاں قادیانیوں کی آئین پاکستان اور شعائر اسلام سے متصادم سرگرمیوں پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے قانون نافذ کرنے والے اداروں سے درخواست کی کہ وہ امتناع قادیانیت اور تحفظ ناموس رسالت کے قوانین پر عملدرآمد کراتے ہوئے قادیانیوں کو اپنے مذہب کی تبلیغ سے روکیں تاکہ ان کے خلاف نفرت میں کمی واقع ہو اور ان کی جان و مال کا تحفظ یقینی بنایا جاسکے۔ وہاں حکومت کی طرف سے پاکستان کے مالیاتی نظام کو آئی ایم ایف کی اقتصادی غلامی سے دینے کے اقدام ،ٹیکسز ،پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں اضافے اور مہنگائی میں ہوشربا اضافہ کردنے والی پالیسیوں پر گہری تشویش کا اظہار کیا اور قوم کو کمرتوڑ مہنگائی اور ظالمانہ ٹیکسوں سے نجات دلانے کے لئے عوامی مطالبات پر غور کرنے کا مطالبہ کرتے ہوئے تاجروں ،مزدوروں ،کم آمدنی والے دکانداروں اور ملازم پیشہ افراد کے مطالبات کی مکمل حمایت کا فیصلہ کیا اور حکومت سے مطالبہ کیا کہ آئی ایم ایف کی طرف سے فراہ م کردہ شیئروں کی بجائے قوم کے طبقات کی تجاویز کو اہمیت دی جائے اور فی الفور سودی نظام اور ظالمانہ ٹیکسوں کو ختم کیا جائے۔ دینی مدارس کے وفاقوں کو سوفیصد اعتماد میں لئے بغیر مدارس کے نظام ،مالیات،نصاب اور انتظامی امور سے متعلق حکومتی اقدامات کو مسترد کیا جائے گا، اور تمام دینی جماعتیں وفاق المدارس العربیہ اور اتحاد تنظیمات مدارس دینیہ کے موقف اور مطالبات کی مکمل تائید کرتی ہے، اوراگر خدانخواستہ مدارس پر غیر ملکی خواہشات کا ایجنڈا جبراً مسلط کرنے کی کوشش کی گئی تو پوری قوم دینی مدارس اور ان کی تنظیمات کے شانہ بشانہ ہوگی۔
اجلاس کے آخر میں متفقہ قرار داد کے ذریعہ اسلامی جمہوریہ پاکستان میں مسلح افواج کے سربراہ سے اپیل کی گئی کہ کشمیر کی بگڑتی ہوئی صورتحال پر فوری طورپر ایسا فیصلہ کرے جس سے مسئلہ کشمیر بھی سلامتی کونسل کی قرارداوں ،کشمیری مسلمانوں کی جدوجہد اور خواہشات کے مطابق حل ہو اور بھارت کو کشمیریوں پر جارحیت کا ارتکاب کرنے کی جرات بھی نہ ہو، پوری پاکستانی قوم بلکہ پوری امت مسلمہ پاک فوج کے شانہ بشانہ ہوگی، اجلاس میں شریک قومی اور دینی رہنماؤں کی دیانتدارانہ رائے ہے کہ مسئلہ کشمیر ،امریکہ کی ثالثی سے نہیں صرف اور صرف سلامتی کونسل کی قراردادوں کے مطابق کشمیری مسلمانوں کو حق خود ارادیت کے ذریعہ اپنے مستقبل کا فیصلہ خود کرنے کے مسلمہ اصول پر عمل درآمد کروانے سے حل ہوگا، حکومت پاکستان اور مقتدر شخصیات کو کشمیریوں کا یہ حق تسلیم کرنے پر عالمی برادری کو قائل کرنے اور اس پر عمل کرانے سے ہی حل ہوگا، خطے میں پائیدار امن اورخطے کے تمام ممالک کی سالمیت ،مسئلہ کشمیر اور مسئلہ افغان کے حل سے وابستہ ہے، یہ جتنی جلد ہوسکے امن کی دہلیز پر اتنی ہی جلدیہ خطہ قدم رکھ پائے گا۔
اجلاس میں شریک قائدین نے متفقہ طورپر مطالبہ کیا کہ پارلیمنٹ کا مشترکہ اجلاس بلاکر مسئلہ کشمیر کے حل کے لئے متفقہ قرار داد کی جائے،عالمی برادری ،او آئی سی ،اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل سے مطالبہ کرے کہ سلامتی کونسل کی قراردادوں کے مطابق مسئلہ کشمیر کے فوری حل کے لئے بھارت پر دباؤ بڑھائے۔
شرکائے کانفرنس : جمعیت علمائے اسلام (س) کے امیر حامد الحق حقانی،مولانا عبدالروف فاروقی،مولانا شاہ عبدالعزیز ، مولانا عبدالواحد، مولانا عبدالقدوس ،مولانا عبدالخالق ہزاروی، مولانا عبدالحئی،مولانا عرفان الحق،مولانا حسیب حقانی،مولانا عزت اللہ، پاکستان مسلم لیگ کے کامل علی آغا، تحریک نوجوانان پاکستان کے عبداللہ گل،مسلم کانفرنس کشمیر کے محمد صغیر،وفاق المدارس العربیہ کے مولانا ظہور احمد علوی، جماعت اسلامی کے مرکزی رہنما میاں اسلم ، پاکستان شریعت کونسل کے مولانا عبدالقدوس محمدی،مجلس احرار اسلام کے حاجی عبداللیطف چیمہ،جمعیت علمائے اسلام نظریاتی کے مولانا محمدزبیر روحانی، مرکزی جمعیت اہل حدیث کے سینٹر پروفیسر ساجد میر،جمعیت علمائے پاکستان کے مولانا قاری زوار بہادر، انصار الامہ کیمولانا فضل الرحمن خلیل،مسلم لیگ (ض) کے سربراہ جناب اعجاز الحق،جمعیت علمائے اسلام آزاد جموں کشمیر کے مولانا قاضی محمود الحسن ،اہل سنت و الجماعت کے مولانا اشرف طاہر، عالمی مجلس ختم نبوت کے مولانا محمد طیب،تحریک تحفظ ختم نبوت کے مولانا عبدالوحید قاسمی،اسلامی جمہوری اتحاد کے علامہ محمد زبیر احمد ظہیر ،انٹرنیشل ختم نبوت کے مولانا الیاس چنیوٹی ایم پی اے و دیگر نے شرکت کی ۔

اپنا تبصرہ بھیجیں