حضرت مولاناسمیع الحق شہید رحمۃ اللہ علیہ کی ذاتی ڈائری

مرتب : مولانا حافظ عرفان الحق اظہار حقانی
استاد دارالعلوم حقانیہ اکوڑہ خٹک

١٩٨٧ء ۔ ١٩٨٨ء کی ڈائری

عم محترم حضرت مولانا سمیع الحق شہید آٹھ نو سال کی نوعمری سے معمولات کی ڈائری لکھنے کے عادی تھے۔ ان ڈائریوں میں آپ اپنے ذاتی اور عظیم والد شیخ الحدیث حضرت مولانا عبدالحق کے معمولات شب و روز اور اسفار کے علاوہ اعزّہ و اقارب ، اہل محلہ و گردوپیش اورملکی و بین الاقوامی سطح پر رونما ہونے والے احوال و واقعات درج فرماتے، آپکی اولین ڈائری ١٩٤٩ء کی لکھی ہوئی ہے ۔جس سے آپ کا ذوق او رعلمی شغف بچپن سے عیاں ہوتا ہے۔ احقر نے جب ان ڈائریوں پر سرسری نگاہ ڈالی تو معلوم ہوا کہ جابجا دوران مطالعہ کوئی عجیب واقعہ ،تحقیقی عبارت، علمی لطیفہ، مطلب خیز شعر ، ادبی نکتہ، اور تاریخی عجوبہ آپ نے دیکھا تو اسے ڈائری میں محفوظ کرلیا۔ اس پر دل میں خیال آیا کہ کیوں نہ مطالعہ کے اس نچوڑ اور سینکڑوں رسائل اور ہزارہاصفحات کے عطر کشید کو قارئین کے سامنے پیش کیا جائے جس سے آئندہ آنے والی نسلیں اور اسیرانِ ذوقِ مطالعہ استفادہ کرسکیں۔تاہم یہ واضح رہے کہ نہ تو یہ مستقل کوئی تالیف ہے اور نہ ہی شائع کرنے کے خیال سے اسے مرتب کیا گیا ہے ۔ اسلئے ان میں اسلوب کی یکسانیت اور موضوعاتی ربط پایا جانا ضروری نہیں۔یاد رہے کہ یہ ڈائریاں ایک طرف حضرت مولانا عبدالحق اور شیخ الحدیث مولانا سمیع الحق شہید کے احوال و سوانح کے لئے بھی ایک بنیادی و اہم ماخذ کی حیثیت رکھتے ہیں تو دوسری طرف دارالعلوم حقانیہ کی تاریخ اور شب و روز بھی اس میں کافی حد تک محفوظ ہوچکے ہیں… (مرتب)


مستقبل کے علمی اور فکری جنگ کیلئے طالبعلمی میں تیاری
یاد رکھو!آپ دین کے طالب علم ہیں، آپ کالج اوریونیورسٹی کے طلبہ کی نقلیں نہ اتاریں ، ان کی تعلیم کامقصد نوکری ہے ،کلرک اوربابو بنناہے ،سیکرٹری اوروزیر بنناہے ،یہ ان کا مقصد ہے وہ نقلیں کرکے پاس ہوتے ہیں، پھر ٣،٤ ہزا ر کی رشوتیں دے کر افسربن جاتے ہیں، لیکن تمہارا میدان امر با لمعروف اورنہی عن المنکر کا ہے ، اہل باطل سے ٹکرلینی ہے ،تمہاری جنگ کلاشنکوف اوربندوق کی جنگ نہیں ، تمہاری جنگ علم کی جنگ ہوگی اورآپ جانتے ہیں کہ اہل باطل بڑے تیار ہیں، مسلح ہیں، پرویزی ، قادیانی ،منکرینِ حدیث، اہل تشیع،ماڈرن ازم والے، مستشرقین ، متجددین اورانگریز کی روحانی ذریت جو ہم پر مسلط ہیں، اوربے دین وکلاء اورجج سب سے تمہارامقابلہ ہوگا، تم نے دلائل کیساتھ اسلام کی حقانیت ثابت کرنی ہوگی ،تم نے علمی اورفکری جنگ لڑنی ہوگی اسلامی قوانین کے نفاذ کی ضرورت کیوں ہے؟وہ عصرحاضر کے تقاضوں کو کس طرح پورا کرتے ہیں؟ ہزاروں مسائل پیداہوچکے ہیں، پھر اگر تمہارے پاس علم نہ ہوگاتومجلس میں بات کرنے اوربحث کرنے کے قابل نہ ہوگے ،جواب نہ دے سکوگے ،مغربی تہذیب اورمغربی فکر اپنے ساتھ سینکڑوں مسائل لائی ہے ، اسلام کا ان سب کوچیلنج ہے مگروہ صرف کتاب میںنہیں وہ دلائل کے ساتھ صبر وتحمل کے ساتھ مخالفین کو قائل کروگے ۔
عقل واستدلال سے لادین لوگوں کے مقابلہ کیلئے تیاری
عورت کی دیت، مرد کی دیت کے نصف ہے ، دوعورتوں کی گواہی کیوں ایک مرد کے مساوی ہے؟ اب توعورتیں جدید تعلیم حاصل کرکے مغربی تہذیب سے متاثر ہوکرمیدان میں آگئی ہیں؟ فقہ کے ایک جزیہ اوراصول وقواعد سے آپ نے مذبذبین کوقائل کرنے کیلئے بڑی تیاری کرنی ہوگی ، مغرب کے فلسفے ، کمیونزم ، سوشلزم کا جواب کیا ہے ؟اسلام کے اقتصادی اورمعاشی اصول کیاہے ؟اخلاقی اصول کیا ہیں؟اسلام کو دنیا کے تمام مذاہب پر برتری کیوںحاصل ہے ؟تمہارے سروں پر بڑی ذمہ داری آرہی ہے ۔محض حمد اللہ ، شرح عقائد پڑھ لینے سے ذمہ داری سے عہد برآنہیں ہوسکتے ۔
آپ نے تمام جدیداور قدیم ، اسلام کے شبہات اعتراضات اورفتنوں سے خود کو واقف کرنا ہوگا، اورخود کوتیارکرنا ہوگا اورشرح صدر سے سب کا جواب تیار کرنا ہوگا، آپ اس علم کی تحصیل کیلئے جو تیرہ چودہ سال صرف کرتے ہیں اگرچودہ سوسال بھی لگ جائیں تب بھی اس کا حق ادانہیں کر سکتے۔ آپ کو بڑی تیاری کی ضرورت ہے ، بدقسمتی سے ٢٠،٢٥ سال سے ہمارے علمی ادارے اور مدارس بھی بانجھ ہوتے جارہے ہیںِ یہاں سے فارغ ہونے والے سکول ماسٹری یامساجد کی امامت کو اپنامطمح نظر بنائے ہوئے ہیں، عالم کا جو مقام، جو فرض ہے اس پر توجہ نہیں دی جارہی ، بہرحال وقت کی قدر کریں نظری اورفکری اعتبار سے دشمن کے مقابلہ کی تیاری کریں، اگرعلم کی دولت تمہارے پاس ہوگی ،علم کی دولت سے مالامال ہوگے توتمہارے لئے ہر میدان کھلارہے گا، خداتعالیٰ فتح دے گا، اس کی نصرتیں تمہارے ساتھ ہوں گے خداتعالیٰ سب کو علم وعمل کا اصل ذوق عطافرمائے اورسب کو اسلام کا مجاہد سپاہی اورخادم بنادے ، وآخر دعوانا ان الحمد للہ رب العالمین
شیخ الحدیث حضرت مولانا عبدالحق (قدس سرہ) کی دعائیہ کلمات
اسکے بعد حضرت شیخ الحدیث مولانا عبدالحق قدس سرہ نے دعائیہ کلمات ارشادفرماتے ہوئے کہا!
محترم بزرگو! اورمحترم فضلاء اورنوجوان طلبہ! دورہ حدیث کے طلبہ ہوں یا مشکوة اورجلالین کے طلبہ یانچلے درجہ کے طلبہ ہیں اللہ تعالیٰ سب کو علم وعمل کی دولت سے مالامال فرمائے ، یہ سہ ماہی امتحانات آپ نے جو دئیے ہیں اورجن طلبہ نے زیادہ نمبر حاصل کئے ہیں، یہ ان کی بھی مسرت کا دن ہے اورہمارے لئے اور تمام دارالعلوم کے لئے مسرت کا باعث ہے ، ان شاء اللہ ثم ان شاء اللہ اس انعام واکرام کی وجہ سے طلبہ میں رشک پیدا ہوگا اور مسابقت کا جذبہ بھرے گا۔حدیث میں آیا ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں:
علم اورسخاوت میں رشک محمود
حسد قطعاًجائز نہیں اورشرعاً ممنوع ہے ،مگر دوچیزیں ہیں جن میں اس کی اجازت دی گئی ہے ، ایک وہ شخص جس کو اللہ تعالیٰ نے مال دیا ہو اوروہ خدا کی راہ میں خرچ کرے دوسرا وہ شخص ہے جو شب وروز علم کی تلاش واشاعت اورخدمت کرے، حسد سے رشک اور غبطہ مرادہے۔
بنگلہ ، موٹر، باغ ، ملک ، وزارت ،یہ رشک اورتمنا کے قابل نہیں ، ہاں! یہ جو طلبہ آپ دیکھ رہے ہیں انعام حاصل کرتے ہیں توہمیں بھی رشک ہوتاہے ،کاش! ہم بھی ایسی محنت کرتے ، سبق میں تکرار میں اورسب میں یہ خواہش ابھرتی ہے تویہ رشک ہے ، غبطہ ہے اوریہ محمود ہے ، تویہ شوق اوریہ تمنا اوریہ غبطہ جائز ہے ، جو صرف دوچیزوں میں محدود ہے ایک سخاوت میں اوردوسرا علم میں ۔
محترم بھائیو! دارالعلوم میں سہ ماہی امتحانات کے بعدیہ انعامات کی تقریبات کی غرض یہی ہوتی ہے کہ طلبہ میں علم کا شوق اورغبطہ اوررشک زیادہ پیداہو،مسابقت فی العلم کا جذبہ ابھرے ، خاصکر یہ خاصیت اللہ کریم نے دارالعلوم کو بخشی ہے ،عام طور پر جلسے ہوتے ہیں تقریبات منعقد ہوتی ہیں، مگرخدا کا فضل ہے کہ دارالعلوم حقانیہ میں سہ ماہی ، ششماہی امتحانات میں بہتر نمبر حاصل کرنے والوں کو انعامات دئیے جاتے ہیںسہ ماہی پر انعام واکرام اورششماہی میں بھی ، اللہ تعالیٰ اس سلسلہ کو باقی اوردائم رکھے ۔
محترم بھائیو! خدا تعالیٰ تمہارے مساعی قبول کرے اورتمام کی محنتوں کو بہترین ثمرات سے نوازے سب کو عمدہ حافظے عطافرمائے۔
ذہانت وحافطہ کی تیزی کیلئے نسخہ
امام وکیع کی خدمت میں ایک مرتبہ حضرت امام شافعی رحمہ اللہ علیہ نے حافظہ کی زیادتی کا وظیفہ طلب کیا یاحافظہ کی کمزوری کی شکایت کی توانہوں نے جو نسخہ زیادہ حفظ کا بیان فرمایا،اللہ تعالیٰ ہم سب اسے اختیار کرنے اوراس پر عمل کرنے کی توفیق ارزانی عطافرمائے۔
شکوت الی وکیع سوء حفظی فاوصانی الی ترک المعاصی
فان العلم فضل من الٰہ وفضل اللہ لایعطیٰ لعاصی
محترم بزرگو جس قدر تقویٰ اورنور اللہ پاک اس علم کی برکت سے ہمیں عطافرمائے گا تواس سے حافظے بھی بڑھ جائیں گے ، حضرت وکیع رحمہ اللہ، امام شافعی رحمہ اللہ کے استاد ہیںِتوانہوں نے امام شافعی کے دریافت کرنے پر انہیں فرمایا علم اللہ تعالیٰ کا نور اوراس کا فضل ہیں اوریہ فضل گنہگار اورمعصیت سے آلودہ قلوب میں نہیں ودیعت کیاجاتا، و فضل اللہ لایعطی لعاصی
کوشش اورہمت کریں کہ اللہ تعالیٰ ہمارے اندر تقویٰ کا مادہ پیدا فرمادیں دیں، اوریاد رکھو، امتحانات ، نمبرات، انعامات ،ہم اپنی طرف سے نہیں کرتے بلکہ خود اللہ تعالیٰ نے آدم علیہ السلام کو علم دیا ، پھر امتحان لیا، پھر آدم علیہ السلام امتحان میں کامیاب ہوئے تواللہ تعالیٰ نے خلافت عطافرمائی ، انی جاعل فی الارض خلیفہ تویہ امتحانات اورانعامات کا سلسلہ پہلے سے چلا آرہاہے ۔
دارالعلوم کی خصوصیت یہاں کے طلبہ ہر آن مصروف عبادت
جب ہم دیوبند میں تھے تواس وقت مسجد میں جاتے توکوئی نہ کوئی صاحب مسجد میں ذکر ، تلاوت، عبادت اورنوافل میں مشغول رہتے ،یہ خصوصیت الحمدللہ اللہ پاک نے دارالعلوم حقانیہ کو بھی عطاکی ہے کہ یہاں پر علماء فضلاء اورطلبہ میں کوئی نہ کوئی یہاں مصروف عبادت رہتاہے ، یہ اللہ تعالیٰ کافضل ہے اس دارالعلوم پر اللہ تعالیٰ کا کرم ہے ، ہمارے فضلاء کو اللہ تعالیٰ نے بڑے انعام سے نوازا ہے۔
ملکی وبین الاقوامی سیاست میں فضلاء حقانیہ کا قائدانہ حصہ
الحمدللہ دارالعلوم حقانیہ کے فضلاء اس وقت ملکی سیاسیات پر حاوی ہیں اورپوری بین الاقوامی سطح پر عالمی سیاست پر حاوی ہیں، اس وقوت یورپ کا بڑا چرچہ ہے ، امریکہ کا ڈنکا بج رہا ہے، پرسوں ترسوں آپ نے اخبارات میں پڑھا ہوگا، دارالعلوم کے فقیر درویش فاضل مولانا یونس خالص جو تمہارے حقانی برادری کا ایک فرد اورفاضل ہے ،اس نے امریکی صدر ریگن سے ملاقات کی اور گفتگو کی عالمی سیاست اورمسئلہ افغانستان پر اس نے خود صدر ریگن کو حیران کردیا ہے کہ ایک مولوی ایک درویش اوراس قدر علم وحکمت اورتدبر وسیاست کی باتیں بہرحال یہ آپ حضرات کااخلاص ہے کہ فضلاء کی مادر علمی سے وابستگی ہے کہ خدا نے آج آپ حضرات اور تمام فضلائے حقانیہ کو یہ برکات دئیے ہیں کہ پوری دنیا کی عالمی سیاست میں تمہارا قائدانہ حصہ ہے ۔
پوری دنیا کی نظریں دارالعلوم پر مرکوز
اورآج کی ملکی سیاست میں تحریک نفاذ شریعت اورجہاد افغانستان میں سات جماعتی اتحاد کی قیادت حضرت مولوی یونس خالص کی شکل میں سب کو نظر آرہی ہے ،اب پوری دنیا کی نظریں دارالعلوم حقانیہ کی طرف لگ رہی ہیں۔
انعام ملنے اورنہ ملنے دونوں صورتوں میں عجز وانکساری اور عبدیت کا اظہار
علم اورامتحانات اورانعاما ت کا سلسلہ قدیم سے چلا آرہاہے ، اس پر آپ ناراض نہ ہوں کہ بعض کے نمبر کمزور آئے ہیں، یاپیچھے رہ گئے ہیں میں توقع رکھتاہوں، کہ آئندہ امتحان میں اوراگراس میں رہ گئے توآئندہ امتحانات میں ان شاء اللہ کسی نہ کسی امتحان میں ہمارے ساتھی سارے کامیاب ہونگے ،یہ توآپ کو معلوم ہے کہ فرشتوں کی شان بہت بلندہے، عظمت والے ہیں، فرشتوں نے امتحانات کے جواب میں خدا کی بارگاہ میں عرض کیا تھا: سُبْحٰنَکَ لَا عِلْمَ لَنَآ اِلاَّ مَا عَلَّمْتَنَا اِنَّکَ اَنْتَ الْعَلِیْمُ الْحَکِیْمُ (البقرة:٣٢) یعنی آپ اس پر ناراض نہ ہوں، کہ ہم نے انعام حاصل نہیں کیا، آدم علیہ السلام کو انعام حاصل ہوا توعجر وانکساری اورفرشتوں کو انعام حاصل نہ ہوسکا، توانہوں نے شکر، عبدیت اورعاجزی کااظہار کیا کہ لَا عِلْمَ لَنَآ اِلاَّ مَا عَلَّمْتَنَا اِنَّکَ اَنْتَ الْعَلِیْمُ الْحَکِیْمُ توجن کو انعام نہیں ملا، وہ یہ نہ کہے کہ میں رہ گیا ہوں، بلکہ وہ محنت کرے کہ آئندہ انعام کا مستحق ہوسکے، دارالعلوم حقانیہ ایک نہر ہے جو جاری ہے ،یہ سب یہاں کے اساتذہ کے اورمشائخ کے برکات ہیں ان کے اخلاص کی برکت سے دارالعلوم ترقی کررہاہے دعا کریں کہ خداتعالیٰ ایسا وقت لائے جیسا اب دنیا کی نظریں دارالعلوم پر ہیں اسی طرح وقت ان شاء اللہ آئے گا کہ ہمارے فضلاء ہر میدان میں کامیاب ہوں گے ۔
بعض مدارس میں بغیر تکمیل علوم دورہ حدیث میں داخلہ پر تنبیہ
اب مدارس میں نقصان یہ پیدا رہاہے کہ درس نظامی کی تکمیل نہیں کی ہوتی کہ دورہ حدیث پڑھ لیتے ہیں، اورعلم میں ناقص رہ جاتے ہیں آپ ہر گز ایسا نہ کریں، میری دعا ہے کہ خدا تعالیٰ جہاد کے میدان میں آپ کو مزید سینہ سپر کردے۔
کاش کہ ! اس میدان میں مجاہدین کے ساتھ شانہ بشانہ میں بھی جہاد میں شریک ہوتااور ان کے ساتھ جانی ومالی، بدنی اور ہر قسم کی قربانی کا اہل ہوتا، شاید خدا یہ تمنا بھی پوری کردے جیسا کہ بتایا گیا ہے کہ وقت کی قدر کرو، واقعتا وقت بڑی قیمتی چیز ہے ، میں ایک بوڑھا کمزور اورمریض تمہارے سامنے بیٹھاہوں، میں نے زندگی صرف کردی لیکن زیادہ کچھ نہ کرسکا، اب پچھتاتا ہوں کاش! کہ وقت کی قدر کی ہوتی اورکچھ کام کیا ہوتا۔
افغانستان کی آزادی اورپاکستان میں مکمل نفاذ شریعت کا عزم مصمم
آپ حضرات پر اللہ تعالیٰ نے شباب کا زمانہ لائے ہوئے ہیں، آپ ضرور اس کی قدر کریں اوریہ دل میں فیصلہ کرلیں تو اللہ تعالیٰ ان شاء اللہ تمہیں دنیوی اُخروی مقامات عطافرمادے گا، عملی جدوجہد کا فیصلہ کرلیں کہ ہم اس وقت تک جہدوجہد کریں گے اورہرقسم کی قربانی کیلئے خودکو تیار رکھیں، جب تک افغانستان آزاد نہیں ہوجاتا، اورملک میں مکمل نفاذ شریعت کا اعلان نہیں کردیا جاتا، اسکے بعد حضرت اقدس شیخ الحدیث دامت فیوضہم نے دارالعلوم حقانیہ کی بقاء واستحکام ، علماء وفضلاء کی علمی روحانی ترقی ، جہاد افغانستان،طلبہ کی کامیابی ، معاونین دارالعلوم اورچندہ دہندگان ، انتظامیہ اورملک وبیرون ملک وابستگانِ دارالعلوم سب کی کامیابی ، دنیا وآخرت کے بلند درجات اورترقیات کیلئے الحاح اورعجز انکسار کے ساتھ دعافرمائی۔
بیرون ملک دینی کام کرنے والوں کوخصوصی نرمی اور مصلحت اختیار کرنے کی نصیحت
قبلہ والد ماجد سے ایک مہمان عالم دین جو برطانیہ میں مقیم تھا نے کہاکہ مجھے لندن میں رہتے ہوئے وہاں کے حالات کے مطابق خصوصی نصیحت سے نوازئیے۔
فرمایا اتنی بات یادرکھیں کہ اللہ پاک نے اپنے پیغمبروں کو جو دین کے اولین داعی ہیں ان کو بھی عامة الناس سے نرم اورقول لیّن کی تاکید فرمائی ہے ۔تبلیغ اوردعوت کے کام میں نرمی ، مصلحت ، محبت اور شفقت کا انداز اختیار کریں آپ جہاں پر ہیں، وہ توکفر اوربغاوت کے مراکز ہیںِ ایسے مراکز میں زبان کی طرح نرمی سے کام لینا ہوگا، کہ کام بھی ہوتا رہے اورمحفوظ بھی رہے ،تقریر اورزبانی دعوت سے بڑھ کر اپنے کردار اورعمل اورمعاملہ وتعلق کی دعوت سے لوگوں کو دین کی طرف بلائیں، شب وروز کی زندگی شریعت کے مطابق ڈھال دیں ، جب راستہ چلیں، جب کاروبار کریں جب آنا جانا ہو توسب اسلام کے مطابق ہو، تاکہ لوگوںکو پتہ چلے کہ تعلیم کی طرح مسلمانوں کے اعمال بھی امن وفلاح کی ضمانت ہیں ، جس قدر بھی حکمت عملی سے کام لیںگے خدا تعالیٰ اتنا ہی راستہ کھولیں گے ۔

اپنا تبصرہ بھیجیں