نقش آغاز

از مولانا راشد الحق سمیع صاحب

عظیم داعی شیخ الحدیث حضرت مولانا محمد زکریا کے جانشین وفرزند
حضرت مولانا محمد طلحہ کاندھلوی کی وفات

اسلامی ہجری سال١٤٤٠ھ امت مسلمہ اور خصوصاً برصغیر کے مسلمانوں پر بہت بھاری ثابت ہوا ہے، اس کی شروعات ہی میں عالم اسلام وپاکستان کی عظیم شجاع شخصیت شیخ الحدیث حضرت مولانا سمیع الحق نوراللہ مرقدہ کو دشمنان اسلام نے بیدردی کے ساتھ شہید کیا۔پھر اس کے بعد تو تقریباً ہر ماہ کوئی نہ کوئی علم و عرفان کا چراغ یکے بعد دیگرے بجھتا چلا گیا اور اب اس عام الحزن (غم کے سال) کے آخر میں حضرت مولانا محمد طلحہ کاندھلوی کے سانحہ ارتحال نے تو بچھی ہوئی صف ِ ماتم اور پھیلی ہوئی شب ِ تاریک کو اور بھی دراز وتاریک تر کردیا۔ ع اک چراغ اور بجھا اور بڑھی تاریکی
١ ٢ اگست ٢٠١٩مطابق یکم ذی الحجہ ١٤٤٠ھ بروز پیر عید الاضحی کے مبارک دن شیخ الحدیث حضرت مولانا زکریا صاحب نور اللہ مرقدہ کے اکلوتے صاحبزادے،سچے جانشین، بقیة السلف پیر طریقت حضرت مولانا محمد طلحہ کاندھلوی طویل علالت کے بعد ہسپتال میں انتقال فرما گئے اناﷲ وانا الیہ راجعون۔
حضرت مولانا طلحہ کاندھلوی کی شخصیت کسی تعارف کے محتاج نہیں، آپ کی تعریف اور پہچان کیلئے یہی کافی ہے کہ آپ کی نسبت ایک بہت بڑی علمی ،دعوتی اور روحانی عالمی شخصیت قطب الاقطاب شیخ الحدیث حضرت مولانا زکریا کاندھلوی صاحب سے ہے، حضرت خانوادہ کاندھلوی کی علمی اور روحانی میراث کے امین تھے، آپ احسان و سلوک کے سلسلہ میں حضرت مولانا شاہ عبدالقادر رائپوری سے بیعت تھے اور اس طرح اپنے والد بزرگوار قطب الاقطاب شیخ الحدیث مولانا زکریا کاندھلوی صاحب سے بھی روحانی تعلق کو مضبوط کیا، اور آپ کی تربیت میں رہ کر سلوک و احسان کے اعلیٰ منازل طے کرکے تقویٰ کے بلند مراتب پر فائز رہے۔ یہاں تک کہ آپ کو حضرت شیخ الحدیث نے زندگی میں ہی اپنی طرف سے بیعت وارشاد کی اجازت عطا فرمائی، آپ کی بلندپایہ شخصیت کو بنانے میں آپ کے عظیم والد بزرگوار کی تربیت کا بڑا دخل ہے، حضرت مرحوم کی شخصیت اس اعتبار سے منفرد ہے کہ آپ کو سن طفولیت میں ہی پیر طریقت کا خطاب ملا، مولانا مرحوم جامعہ مظاہر العلوم سہارنپور کے سرپرست اور ام المدارس جامعہ دار العلوم دیوبند کے شوریٰ کے رکن رکین تھے، اسی طرح بہت سی اسلامی تحریکات اور جماعتوں کے سرپرستی فرماتے تھے، سب سے بڑھ کر یہ کہ وہ علم کے ساتھ ساتھ راسخ العقیدگی و تدّین، خلوص و للہیت، ورع و تقوی، زہد وقناعت، تواضع و انکساری اور بے نفسی کا بھی مجسم نمونہ اور سیرت وکردار اور سادہ شخصیت کے مالک تھے، اپنے عظیم والد بزرگوار کی صالح زندگی کا آئینہ اور ان کی تبلیغی خدمات کا نمونہ تھے، عظیم نسبت اور صوفیانہ خصوصیات کے حامل تھے۔ ان کا وجود ملت ِ اسلامیہ کیلئے بلاشبہ نعمت و برکت تھا، ان کے فیوض و برکات سے ایک عالم مستفیض ہوا ، آپ کے ذریعے لوگ روحانی غذا حاصل کرتے تھے اور ہدایت کی دولت سے مالا مال ہو جاتے، انہوں نے اپنی پوری زندگی دین کی خدمت کیلئے وقف کی،والدمحترم شیخ الحدیث حضرت مولانا سمیع الحق شہید نور اللہ مرقدہ اور حضرت مولانا طلحہ مرحوم کے درمیان بے پناہ الفت ومحبت تھی، اکثر حج اور عمرہ کے دوران حرمین شریفین میں ہماری ملاقاتیں ہوتیں۔ اپریل ٢٠١٥ء کو جب آپ پاکستان تشریف لائے تو جامعہ حقانیہ کو بھی قدوم میمنت سے نوازا، خاندان حقانی سے ان کو بھی بے پناہ محبت تھی، یقینا حضرت مولانا طلحہ مرحوم کا حادثہ فاجعہ نہ صرف ان کے خاندان کیلئے بلکہ یہ پوری ملت اسلامیہ کیلئے ایک عظیم حادثہ ہے، خاص کر حقانی خاندان اس غم اور صدمے میں حضرت مولانا مرحوم کے پسماندگان اور خصوصاً پیرطریقت جامعہ حقانیہ کے قابل فخر فرزند حضرت مولانا پیرعزیز الرحمن صاحب مدظلہ کے ساتھ برابر کا شریک ہے، اللہ تعالیٰ حضرت مولانا مرحوم کو کروٹ کروٹ جنت الفردوس نصیب فرمائے اور حضرت کے تمام پسماندگان ،متوسلین ،معتقدین اورمریدین کو صبر جمیل عطا فرمائے( آمین)۔جب آپ پاکستان و دارالعلوم حقانیہ تشریف لائے تھے اور یہاں دارالعلوم میں طلبہ سے علمی و روحانی خطاب بھی فرمایاتھا، ماہنامہ الحق مارچ ،اپریل ٢٠١٥ء میں آپ کی آمد پر راقم نے اداریہ تحریر کیا تھا وہ بھی موقع کی مناسبت سے نذر قارئین ہے ۔
عظیم داعی شیخ الحدیث حضرت مولانا محمد زکریا کے جانشین وفرزند
حضرت مولانا محمد طلحہ کاندھلوی کی دارالعلوم حقانیہ آمد
الحمدللہ جامعہ دارالعلوم حقانیہ عالم اسلام اور ہندوپاک کی ایسی روح پرور و علمی و دینی درسگاہ ہے جس میں وقتاً فوقتاً عالم اسلام کے مشاہیر اور زعماء ملت تشریف لاتے رہتے ہیں، اور دارالعلوم کے ساتھ اپنی محبت ووابستگی کا اظہار فرماتے رہتے ہیں، اسی سلسلے میں مورخہ ٧۔اپریل ٢٠١٥ء بروزمنگل بمطابق ١٧جمادی الثانی ١٤٣٦ھ کو جامعہ دارالعلوم حقانیہ ایک ایسی بابرکت و قدآور شخصیت اپنے وفد کے ہمراہ تشریف لائیں جن کی آمد سے دارالعلوم حقانیہ کی رونق و عزت میں چار چاند لگ گئے۔ آپ شیخ الحدیث حضرت مولانا محمد زکریا ،صدر مدرس جامعہ مظاہر العلوم سہارنپور (ہندوستان) مرکزی رہنماء و سرپرست عالمی تبلیغی جماعت کے فرزند ِ ارجمند و جانشین ہیں اور اس عظیم نسبت کے علاوہ ہندوستان کی دو عظیم علمی و روحانی درسگاہوں دارالعلوم دیوبند و دارالعلوم مظاہر العلوم کے سرپرست اعلیٰ بھی ہیں، ماشاء اللہ آپ بہت بڑی روحانی شخصیت و پیرطریقت ہونے کیساتھ اپنے والد گرامی شیخ الحدیث مولانا زکریا قدس سرہ کا سلسلہ دنیا بھر میں پھیلا دیا ہے۔ آپکے عقیدت مندوں اور فیض یافتگان کی تعداد ہزاروں سے بھی آگے پہنچ گئی ہے۔ اس کے علاوہ ہندوستان میں سینکڑوں مدارس اور چھوٹے بڑے مکاتب کی نگرانی و سرپرستی بھی فرماتے رہتے ہیں۔ اگریہ کہا جائے کہ حضرت طلحہ صاحب مدظلہ اس وقت برصغیر کے متفقً علیہ دیوبندی بزرگ ہیں تومبالغہ نہ ہوگا جنہیں پاکستانی جماعتوں کیساتھ ساتھ ہندوستان کے تمام علماء ،مشائخ،مذہبی تنظیمیں بھی حقیقی طورپر تسلیم کرتی ہیں۔
حضرت مدظلہ سے ویسے تو حرمین شریفین میں سال بہ سال الحمدللہ ملاقات کا شرف حاصل رہتا ہے، لیکن ہم سب کی یہ دیرینہ تمنا تھی کہ آپ جامعہ دارالعلوم حقانیہ بھی تشریف لائیں کیونکہ حضرت مولانا محمد زکریا نور اللہ مرقدہ اور دارالعلوم سہارنپور کے علماء و مشائخ اتفاق سے دارالعلوم اس وقت تشریف نہ لا سکتے تھے، بہرحال پچھلے سالوں راقم نے حضرت کی لاہور آمد کے موقع پر دارالعلوم تشریف لانے کی درخواست پیش کی جو آپ نے قبول کرکے آئندہ دورہ کے موقع پرآنے کا وعدہ فرمایا۔ پھر اس کے بعد دارالعلوم حقانیہ کے قابل فخر فرزند پیرطریقت حضرت مولانا عزیز الرحمن ہزاروی صاحب مدظلہ کی خصوصی دلچسپی و تحریک پرآپ دارالعلوم تشریف لائے، دارالعلوم میں آپ کی آمد کے موقع پرعید کا سماں پیدا ہوگیا تھا،مختصر وقت اور بغیر اطلاع کے باوجود ہزاروں علماء فضلاء صوبہ بھر سے تشریف لاچکے تھے، حضرت والا مدظلہ نے نماز ظہر ہمارے غریب خانے میں ادا کی پھر اس کے بعد دارالعلوم کے دارالحدیث ہال میں باقاعدہ تقریب کا آغاز ہوا۔ تلاوت کلام پاک کے بعد حضرت مہتمم مولانا سمیع الحق صاحب مدظلہ نے خطبہ استقبالیہ پیش کیا اور حضرت کاندھلوی کے آباؤ اجداد کے شاندار علمی ،اصلاحی اور دعوتی خدمات پر روشنی ڈالی،اس کے بعد مجلس میں دیگر شرکاء کا مختصر تعارف فرمایا۔جس میں عالمی ختم نبوت موومنٹ کے مرکزی صدر حضرت مولانا عبدالحفیظ (مقیم مکہ مکرمہ) اور پیرطریقت حضرت مولانا عزیز الرحمن ہزاروی صاحب (مہتمم دارالعلوم زکریا ترنول راولپنڈی)، پیر طریقت حضرت مولانا مفتی مختار الدین شاہ (سجادہ نشین دارالعلوم کربوغہ کوہاٹ) مولانا عبدالقیوم حقانی (مہتمم جامعہ ابوہریرہ)، شیخ الحدیث مولانا ڈاکٹر سید شیر علی شاہ صاحب، شیخ الحدیث حضرت مولانا عبدالحلیم (دیربابا)، شیخ الحدیث حضرت مولانا مغفور اللہ صاحب، مولانا مفتی سیف اللہ حقانی صاحب، مفتی محمد یوسف صاحب کراچی، مولانا عدنان کاکاخیل (معروف خطیب و دینی سکالر)ودیگر علماء شامل تھے، مولانا عزیزالرحمن ہزاروی صاحب اور مولانا ڈاکٹر شیر علی شاہ صاحب نے بھی حضرت کاندھلوی اور ان کے آباؤاجداد کے پس منظر کو بیان کرنے کے بعد ان سے طلباء کو اجازت حدیث ِ دینے اور وعظ و نصیحت کرنے کی درخواست کی۔ حضرت انتہائی کم گو ،سادہ مزاج،جبوں و قبوں سے دور بلکہ نفور، خطیبانہ ناز نخروں سے ناآشنا،انتہائی سادہ لب و لہجہ میں خطاب فرمانے لگے۔بچپن سے بڑھاپے تک جن جن اکابر سے فیض یاب ہوتے رہے،دھیمے دھیمے انداز میں اس کا تذکرہ کرتے رہے، علمائے دیوبند اور علمائے سہارنپورکی بنیادی تین چیزوں دعوت،تدریس اور تزکیہ پر زور دیا ۔حاضرین مجلس بیان سے زیادہ اُن کی روحانیت شخصیت اور دیدار سے فیضیاب ہوتے رہے۔ مجلس میں انوارات و برکات کی بارش تھی،الغرض ایک روح پرورنورانی اجتماع تھا جسکی یادیں دلوں کی دنیا اور یادوں کی بستی میں تازہ رہیں گی۔
مسئلہ کشمیر کی تازہ کشیدہ صورتحال پاک بھارت ایک بار پھر جنگ کے دہانے پر
پچھلے دو تین ہفتوں سے کشمیر میں اہلیانِ کشمیر پر بھارت کی دہشت گرد فوج اور غنڈوں کی طرف سے بے پناہ مظالم کا سلسلہ شروع ہے، وہاں نظام زندگی معطل ہے اور پورے خطے میں کئی روز سے کرفیو نافذہے ، جاہل متعصب اور درندہ صفت بھارتی وزیراعظم نریندر مودی نے الیکشن جیتنے کے بعد اپنے نامکمل ایجنڈے کی تکمیل کیلئے مقبوضہ کشمیر میں اس بار گھناؤنا کھیل شروع کررکھا ہے۔جموں و کشمیر کے علاقے کو بھارت میں ضم کرنے کا اعلان کر دیا اوربھارتی آرٹیکل ٣٧٠کے تحت مقبوضہ کشمیر کو نیم خودمختار ریاست کی حیثیت کو ختم کرکے مقبوضہ کشمیر کو بھارت کا وفاقی علاقہ قرار دے دیا گیا اورنہتے معصوم کشمیری عوام مردو خواتین اور بچوں پر مظالم کے پہاڑ توڑے جارہے ہیں اور ان مظالم پر پوری دنیا خاموش ہے،اقوام متحدہ نے بھی سوائے زبانی جمع خرچ کے کوئی عملی کردار ادا نہیں کیا،بھارت کی طرف سے اقوام متحدہ کی تمام قراردادوں کو جوتے کی نوک پر رکھاگیا، اس اقدام کے باوجود بھی فیصلہ کن اقدام کے بجائے محض زبانی تشویش کا اظہار کیا، بھارت کی فوج ہر طرح کے مظالم نہتے کشمیری مسلمانوں پر روا رکھے ہوئے ہے اور پورے خطے کے امن کو بھی دائو پر لگا دیا گیا مگر کسی کے کان پر جوں تک نہیں رینگ رہی، صرف اس لیے کہ ظلم و ناانصافی کے شکار مسلمان ہیں۔طرفہ تماشہ یہ کہ عرب ممالک کے حکمرانوں نے اس نازک موقع پر مودی کو اپنی اپنی حکومتوں کے سب سے بڑے اعلیٰ حکومتی ایوارڈ بھی عطا کئے جوکہ کشمیری اور خصوصاً اہل پاکستان کے زخموں پر نمک چھڑکنے کے مترادف ہے۔ان سے تو کمیونسٹ ہمسایہ ملک چین نے بہتر کردار ادا کیا اور جس نے فوری طور پر سلامتی کونسل کا اجلاس بلا کر بھارت کے دہشت گرد عزائم و کشمیر کی صورتحال پر اقوام عالم کو متوجہ کردیا ۔
دوسری طرف پاکستانی حکمرانوں کی روایتی غفلت اور بزدلی بھی کشمیری مسلمانوں پر بھارتی دہشت گردی اور مظالم کا سبب بن رہی ہے اور اس مسئلہ پر سنجیدگی کا مظاہرہ نہیںکرپارہے ،حالانکہ مسئلہ کشمیر دو ممالک کے درمیان زمینی جنگ نہیں بلکہ یہ ایمان اور نظریات کا مسئلہ ہے اور اس کے ساتھ ساتھ پاکستان کی تکمیل مسئلہ کشمیر سے ہی وابستہ ہے۔
کشمیر کا ایشو صرف جغرافیائی خطے ، مفادات اور قومیت کا نہیں بلکہ یہ اپنے معصوم بہن بھائیوں کی زندگیوں ،عزتوں اورعصمتوں کو بچانے کا معاملہ ہے، وہیں پہ آج ہماری بہنوں کی عصمتیں خطرے میں ہیں، بھارتی دہشت گرد اور جنونی وزراء کی طرف سے نازیبا بیانات سننے میں آرہے کہ ہم کشمیری کی گوری لڑکیاں ساتھ لے جائیں گے اور انکی عصمتیں لوٹیں گے لیکن ہمارے حکمرانوں کی خاموشی کسی المیہ سے کم نہیں، ہمارے حکمران حقیقی طورپر محمد بن قاسم اور ٹیپوسلطان کا کردار کب ادا کریں گے؟
تعلیمی کانفرنس کے سلسلے میں سفر جاپان
اقوام متحدہ کے ذیلی ادارہ یونیسکو اور حکومت جاپان کے اشتراک سے جاپان کے دارالحکومت ٹوکیومیں منعقدہ (١١ تا ١٥ جولائی) پانچ روزہ تعلیمی ورکشاپ میں راقم نے حضرت مولانا مفتی غلام الرحمن صاحب مدظلہ( مہتمم و بانی جامعہ عثمانیہ پشاور) ،ڈپٹی اسپیکر کے پی کے جناب محمود جان صاحب ، برادر عزیز مولانا اسرار مدنی اور یونیسکو پاکستان کے وفد کے ہمراہ شرکت کی۔کانفرنس کے شرکاء کو دینی مدارس کے نظام تعلیم کے بارے میں ہم نے تفصیلی بریفنگ دی اور ان کو مدارس کے ٹھوس نصاب و نظام تعلیم اور موجودہ دور میں مختلف عصری علوم و فنون جو وفاق المدارس العربیہ نے اپنے کورس میں شامل کئے ہیں اس سے بھی شرکاء کو آگاہ کیا گیا۔ ورکشاپ میں بنگلہ دیش، انڈونیشیا، پاکستان اور جاپان کے نظام تعلیم کے ماہرین، پروفیسرز اور اساتذہ وعلماء نے شرکت کی۔ اس پانچ روزہ علمی و تعلیمی ورکشاپ اور مختلف سکولز و تعلیمی اداروں کے وزٹ کی تفصیل آئندہ شمارہ میں شائع کی جائے گی جو وہاں کے مضبوط نظام تعلیم وتربیت کے حوالے سے بہت چشم کشاء ہوگی۔


حضرت مولانا محمد طلحہ کاندھلوی کی وفات

اسلامی ہجری سال١٤٤٠ھ امت مسلمہ اور خصوصاً برصغیر کے مسلمانوں پر بہت بھاری ثابت ہوا ہے، اس کی شروعات ہی میں عالم اسلام وپاکستان کی عظیم شجاع شخصیت شیخ الحدیث حضرت مولانا سمیع الحق نوراللہ مرقدہ کو دشمنان اسلام نے بیدردی کے ساتھ شہید کیا۔پھر اس کے بعد تو تقریباً ہر ماہ کوئی نہ کوئی علم و عرفان کا چراغ یکے بعد دیگرے بجھتا چلا گیا اور اب اس عام الحزن (غم کے سال) کے آخر میں حضرت مولانا محمد طلحہ کاندھلوی کے سانحہ ارتحال نے تو بچھی ہوئی صف ِ ماتم اور پھیلی ہوئی شب ِ تاریک کو اور بھی دراز وتاریک تر کردیا۔ ع اک چراغ اور بجھا اور بڑھی تاریکی
١ ٢ اگست ٢٠١٩مطابق یکم ذی الحجہ ١٤٤٠ھ بروز پیر عید الاضحی کے مبارک دن شیخ الحدیث حضرت مولانا زکریا صاحب نور اللہ مرقدہ کے اکلوتے صاحبزادے،سچے جانشین، بقیة السلف پیر طریقت حضرت مولانا محمد طلحہ کاندھلوی طویل علالت کے بعد ہسپتال میں انتقال فرما گئے اناﷲ وانا الیہ راجعون۔
حضرت مولانا طلحہ کاندھلوی کی شخصیت کسی تعارف کے محتاج نہیں، آپ کی تعریف اور پہچان کیلئے یہی کافی ہے کہ آپ کی نسبت ایک بہت بڑی علمی ،دعوتی اور روحانی عالمی شخصیت قطب الاقطاب شیخ الحدیث حضرت مولانا زکریا کاندھلوی صاحب سے ہے، حضرت خانوادہ کاندھلوی کی علمی اور روحانی میراث کے امین تھے، آپ احسان و سلوک کے سلسلہ میں حضرت مولانا شاہ عبدالقادر رائپوری سے بیعت تھے اور اس طرح اپنے والد بزرگوار قطب الاقطاب شیخ الحدیث مولانا زکریا کاندھلوی صاحب سے بھی روحانی تعلق کو مضبوط کیا، اور آپ کی تربیت میں رہ کر سلوک و احسان کے اعلیٰ منازل طے کرکے تقویٰ کے بلند مراتب پر فائز رہے۔ یہاں تک کہ آپ کو حضرت شیخ الحدیث نے زندگی میں ہی اپنی طرف سے بیعت وارشاد کی اجازت عطا فرمائی، آپ کی بلندپایہ شخصیت کو بنانے میں آپ کے عظیم والد بزرگوار کی تربیت کا بڑا دخل ہے، حضرت مرحوم کی شخصیت اس اعتبار سے منفرد ہے کہ آپ کو سن طفولیت میں ہی پیر طریقت کا خطاب ملا، مولانا مرحوم جامعہ مظاہر العلوم سہارنپور کے سرپرست اور ام المدارس جامعہ دار العلوم دیوبند کے شوریٰ کے رکن رکین تھے، اسی طرح بہت سی اسلامی تحریکات اور جماعتوں کے سرپرستی فرماتے تھے، سب سے بڑھ کر یہ کہ وہ علم کے ساتھ ساتھ راسخ العقیدگی و تدّین، خلوص و للہیت، ورع و تقوی، زہد وقناعت، تواضع و انکساری اور بے نفسی کا بھی مجسم نمونہ اور سیرت وکردار اور سادہ شخصیت کے مالک تھے، اپنے عظیم والد بزرگوار کی صالح زندگی کا آئینہ اور ان کی تبلیغی خدمات کا نمونہ تھے، عظیم نسبت اور صوفیانہ خصوصیات کے حامل تھے۔ ان کا وجود ملت ِ اسلامیہ کیلئے بلاشبہ نعمت و برکت تھا، ان کے فیوض و برکات سے ایک عالم مستفیض ہوا ، آپ کے ذریعے لوگ روحانی غذا حاصل کرتے تھے اور ہدایت کی دولت سے مالا مال ہو جاتے، انہوں نے اپنی پوری زندگی دین کی خدمت کیلئے وقف کی،والدمحترم شیخ الحدیث حضرت مولانا سمیع الحق شہید نور اللہ مرقدہ اور حضرت مولانا طلحہ مرحوم کے درمیان بے پناہ الفت ومحبت تھی، اکثر حج اور عمرہ کے دوران حرمین شریفین میں ہماری ملاقاتیں ہوتیں۔ اپریل ٢٠١٥ء کو جب آپ پاکستان تشریف لائے تو جامعہ حقانیہ کو بھی قدوم میمنت سے نوازا، خاندان حقانی سے ان کو بھی بے پناہ محبت تھی، یقینا حضرت مولانا طلحہ مرحوم کا حادثہ فاجعہ نہ صرف ان کے خاندان کیلئے بلکہ یہ پوری ملت اسلامیہ کیلئے ایک عظیم حادثہ ہے، خاص کر حقانی خاندان اس غم اور صدمے میں حضرت مولانا مرحوم کے پسماندگان اور خصوصاً پیرطریقت جامعہ حقانیہ کے قابل فخر فرزند حضرت مولانا پیرعزیز الرحمن صاحب مدظلہ کے ساتھ برابر کا شریک ہے، اللہ تعالیٰ حضرت مولانا مرحوم کو کروٹ کروٹ جنت الفردوس نصیب فرمائے اور حضرت کے تمام پسماندگان ،متوسلین ،معتقدین اورمریدین کو صبر جمیل عطا فرمائے( آمین)۔جب آپ پاکستان و دارالعلوم حقانیہ تشریف لائے تھے اور یہاں دارالعلوم میں طلبہ سے علمی و روحانی خطاب بھی فرمایاتھا، ماہنامہ الحق مارچ ،اپریل ٢٠١٥ء میں آپ کی آمد پر راقم نے اداریہ تحریر کیا تھا وہ بھی موقع کی مناسبت سے نذر قارئین ہے ۔
عظیم داعی شیخ الحدیث حضرت مولانا محمد زکریا کے جانشین وفرزند
حضرت مولانا محمد طلحہ کاندھلوی کی دارالعلوم حقانیہ آمد
الحمدللہ جامعہ دارالعلوم حقانیہ عالم اسلام اور ہندوپاک کی ایسی روح پرور و علمی و دینی درسگاہ ہے جس میں وقتاً فوقتاً عالم اسلام کے مشاہیر اور زعماء ملت تشریف لاتے رہتے ہیں، اور دارالعلوم کے ساتھ اپنی محبت ووابستگی کا اظہار فرماتے رہتے ہیں، اسی سلسلے میں مورخہ ٧۔اپریل ٢٠١٥ء بروزمنگل بمطابق ١٧جمادی الثانی ١٤٣٦ھ کو جامعہ دارالعلوم حقانیہ ایک ایسی بابرکت و قدآور شخصیت اپنے وفد کے ہمراہ تشریف لائیں جن کی آمد سے دارالعلوم حقانیہ کی رونق و عزت میں چار چاند لگ گئے۔ آپ شیخ الحدیث حضرت مولانا محمد زکریا ،صدر مدرس جامعہ مظاہر العلوم سہارنپور (ہندوستان) مرکزی رہنماء و سرپرست عالمی تبلیغی جماعت کے فرزند ِ ارجمند و جانشین ہیں اور اس عظیم نسبت کے علاوہ ہندوستان کی دو عظیم علمی و روحانی درسگاہوں دارالعلوم دیوبند و دارالعلوم مظاہر العلوم کے سرپرست اعلیٰ بھی ہیں، ماشاء اللہ آپ بہت بڑی روحانی شخصیت و پیرطریقت ہونے کیساتھ اپنے والد گرامی شیخ الحدیث مولانا زکریا قدس سرہ کا سلسلہ دنیا بھر میں پھیلا دیا ہے۔ آپکے عقیدت مندوں اور فیض یافتگان کی تعداد ہزاروں سے بھی آگے پہنچ گئی ہے۔ اس کے علاوہ ہندوستان میں سینکڑوں مدارس اور چھوٹے بڑے مکاتب کی نگرانی و سرپرستی بھی فرماتے رہتے ہیں۔ اگریہ کہا جائے کہ حضرت طلحہ صاحب مدظلہ اس وقت برصغیر کے متفقً علیہ دیوبندی بزرگ ہیں تومبالغہ نہ ہوگا جنہیں پاکستانی جماعتوں کیساتھ ساتھ ہندوستان کے تمام علماء ،مشائخ،مذہبی تنظیمیں بھی حقیقی طورپر تسلیم کرتی ہیں۔
حضرت مدظلہ سے ویسے تو حرمین شریفین میں سال بہ سال الحمدللہ ملاقات کا شرف حاصل رہتا ہے، لیکن ہم سب کی یہ دیرینہ تمنا تھی کہ آپ جامعہ دارالعلوم حقانیہ بھی تشریف لائیں کیونکہ حضرت مولانا محمد زکریا نور اللہ مرقدہ اور دارالعلوم سہارنپور کے علماء و مشائخ اتفاق سے دارالعلوم اس وقت تشریف نہ لا سکتے تھے، بہرحال پچھلے سالوں راقم نے حضرت کی لاہور آمد کے موقع پر دارالعلوم تشریف لانے کی درخواست پیش کی جو آپ نے قبول کرکے آئندہ دورہ کے موقع پرآنے کا وعدہ فرمایا۔ پھر اس کے بعد دارالعلوم حقانیہ کے قابل فخر فرزند پیرطریقت حضرت مولانا عزیز الرحمن ہزاروی صاحب مدظلہ کی خصوصی دلچسپی و تحریک پرآپ دارالعلوم تشریف لائے، دارالعلوم میں آپ کی آمد کے موقع پرعید کا سماں پیدا ہوگیا تھا،مختصر وقت اور بغیر اطلاع کے باوجود ہزاروں علماء فضلاء صوبہ بھر سے تشریف لاچکے تھے، حضرت والا مدظلہ نے نماز ظہر ہمارے غریب خانے میں ادا کی پھر اس کے بعد دارالعلوم کے دارالحدیث ہال میں باقاعدہ تقریب کا آغاز ہوا۔ تلاوت کلام پاک کے بعد حضرت مہتمم مولانا سمیع الحق صاحب مدظلہ نے خطبہ استقبالیہ پیش کیا اور حضرت کاندھلوی کے آباؤ اجداد کے شاندار علمی ،اصلاحی اور دعوتی خدمات پر روشنی ڈالی،اس کے بعد مجلس میں دیگر شرکاء کا مختصر تعارف فرمایا۔جس میں عالمی ختم نبوت موومنٹ کے مرکزی صدر حضرت مولانا عبدالحفیظ (مقیم مکہ مکرمہ) اور پیرطریقت حضرت مولانا عزیز الرحمن ہزاروی صاحب (مہتمم دارالعلوم زکریا ترنول راولپنڈی)، پیر طریقت حضرت مولانا مفتی مختار الدین شاہ (سجادہ نشین دارالعلوم کربوغہ کوہاٹ) مولانا عبدالقیوم حقانی (مہتمم جامعہ ابوہریرہ)، شیخ الحدیث مولانا ڈاکٹر سید شیر علی شاہ صاحب، شیخ الحدیث حضرت مولانا عبدالحلیم (دیربابا)، شیخ الحدیث حضرت مولانا مغفور اللہ صاحب، مولانا مفتی سیف اللہ حقانی صاحب، مفتی محمد یوسف صاحب کراچی، مولانا عدنان کاکاخیل (معروف خطیب و دینی سکالر)ودیگر علماء شامل تھے، مولانا عزیزالرحمن ہزاروی صاحب اور مولانا ڈاکٹر شیر علی شاہ صاحب نے بھی حضرت کاندھلوی اور ان کے آباؤاجداد کے پس منظر کو بیان کرنے کے بعد ان سے طلباء کو اجازت حدیث ِ دینے اور وعظ و نصیحت کرنے کی درخواست کی۔ حضرت انتہائی کم گو ،سادہ مزاج،جبوں و قبوں سے دور بلکہ نفور، خطیبانہ ناز نخروں سے ناآشنا،انتہائی سادہ لب و لہجہ میں خطاب فرمانے لگے۔بچپن سے بڑھاپے تک جن جن اکابر سے فیض یاب ہوتے رہے،دھیمے دھیمے انداز میں اس کا تذکرہ کرتے رہے، علمائے دیوبند اور علمائے سہارنپورکی بنیادی تین چیزوں دعوت،تدریس اور تزکیہ پر زور دیا ۔حاضرین مجلس بیان سے زیادہ اُن کی روحانیت شخصیت اور دیدار سے فیضیاب ہوتے رہے۔ مجلس میں انوارات و برکات کی بارش تھی،الغرض ایک روح پرورنورانی اجتماع تھا جسکی یادیں دلوں کی دنیا اور یادوں کی بستی میں تازہ رہیں گی۔
مسئلہ کشمیر کی تازہ کشیدہ صورتحال پاک بھارت ایک بار پھر جنگ کے دہانے پر
پچھلے دو تین ہفتوں سے کشمیر میں اہلیانِ کشمیر پر بھارت کی دہشت گرد فوج اور غنڈوں کی طرف سے بے پناہ مظالم کا سلسلہ شروع ہے، وہاں نظام زندگی معطل ہے اور پورے خطے میں کئی روز سے کرفیو نافذہے ، جاہل متعصب اور درندہ صفت بھارتی وزیراعظم نریندر مودی نے الیکشن جیتنے کے بعد اپنے نامکمل ایجنڈے کی تکمیل کیلئے مقبوضہ کشمیر میں اس بار گھناؤنا کھیل شروع کررکھا ہے۔جموں و کشمیر کے علاقے کو بھارت میں ضم کرنے کا اعلان کر دیا اوربھارتی آرٹیکل ٣٧٠کے تحت مقبوضہ کشمیر کو نیم خودمختار ریاست کی حیثیت کو ختم کرکے مقبوضہ کشمیر کو بھارت کا وفاقی علاقہ قرار دے دیا گیا اورنہتے معصوم کشمیری عوام مردو خواتین اور بچوں پر مظالم کے پہاڑ توڑے جارہے ہیں اور ان مظالم پر پوری دنیا خاموش ہے،اقوام متحدہ نے بھی سوائے زبانی جمع خرچ کے کوئی عملی کردار ادا نہیں کیا،بھارت کی طرف سے اقوام متحدہ کی تمام قراردادوں کو جوتے کی نوک پر رکھاگیا، اس اقدام کے باوجود بھی فیصلہ کن اقدام کے بجائے محض زبانی تشویش کا اظہار کیا، بھارت کی فوج ہر طرح کے مظالم نہتے کشمیری مسلمانوں پر روا رکھے ہوئے ہے اور پورے خطے کے امن کو بھی دائو پر لگا دیا گیا مگر کسی کے کان پر جوں تک نہیں رینگ رہی، صرف اس لیے کہ ظلم و ناانصافی کے شکار مسلمان ہیں۔طرفہ تماشہ یہ کہ عرب ممالک کے حکمرانوں نے اس نازک موقع پر مودی کو اپنی اپنی حکومتوں کے سب سے بڑے اعلیٰ حکومتی ایوارڈ بھی عطا کئے جوکہ کشمیری اور خصوصاً اہل پاکستان کے زخموں پر نمک چھڑکنے کے مترادف ہے۔ان سے تو کمیونسٹ ہمسایہ ملک چین نے بہتر کردار ادا کیا اور جس نے فوری طور پر سلامتی کونسل کا اجلاس بلا کر بھارت کے دہشت گرد عزائم و کشمیر کی صورتحال پر اقوام عالم کو متوجہ کردیا ۔
دوسری طرف پاکستانی حکمرانوں کی روایتی غفلت اور بزدلی بھی کشمیری مسلمانوں پر بھارتی دہشت گردی اور مظالم کا سبب بن رہی ہے اور اس مسئلہ پر سنجیدگی کا مظاہرہ نہیںکرپارہے ،حالانکہ مسئلہ کشمیر دو ممالک کے درمیان زمینی جنگ نہیں بلکہ یہ ایمان اور نظریات کا مسئلہ ہے اور اس کے ساتھ ساتھ پاکستان کی تکمیل مسئلہ کشمیر سے ہی وابستہ ہے۔
کشمیر کا ایشو صرف جغرافیائی خطے ، مفادات اور قومیت کا نہیں بلکہ یہ اپنے معصوم بہن بھائیوں کی زندگیوں ،عزتوں اورعصمتوں کو بچانے کا معاملہ ہے، وہیں پہ آج ہماری بہنوں کی عصمتیں خطرے میں ہیں، بھارتی دہشت گرد اور جنونی وزراء کی طرف سے نازیبا بیانات سننے میں آرہے کہ ہم کشمیری کی گوری لڑکیاں ساتھ لے جائیں گے اور انکی عصمتیں لوٹیں گے لیکن ہمارے حکمرانوں کی خاموشی کسی المیہ سے کم نہیں، ہمارے حکمران حقیقی طورپر محمد بن قاسم اور ٹیپوسلطان کا کردار کب ادا کریں گے؟
تعلیمی کانفرنس کے سلسلے میں سفر جاپان
اقوام متحدہ کے ذیلی ادارہ یونیسکو اور حکومت جاپان کے اشتراک سے جاپان کے دارالحکومت ٹوکیومیں منعقدہ (١١ تا ١٥ جولائی) پانچ روزہ تعلیمی ورکشاپ میں راقم نے حضرت مولانا مفتی غلام الرحمن صاحب مدظلہ( مہتمم و بانی جامعہ عثمانیہ پشاور) ،ڈپٹی اسپیکر کے پی کے جناب محمود جان صاحب ، برادر عزیز مولانا اسرار مدنی اور یونیسکو پاکستان کے وفد کے ہمراہ شرکت کی۔کانفرنس کے شرکاء کو دینی مدارس کے نظام تعلیم کے بارے میں ہم نے تفصیلی بریفنگ دی اور ان کو مدارس کے ٹھوس نصاب و نظام تعلیم اور موجودہ دور میں مختلف عصری علوم و فنون جو وفاق المدارس العربیہ نے اپنے کورس میں شامل کئے ہیں اس سے بھی شرکاء کو آگاہ کیا گیا۔ ورکشاپ میں بنگلہ دیش، انڈونیشیا، پاکستان اور جاپان کے نظام تعلیم کے ماہرین، پروفیسرز اور اساتذہ وعلماء نے شرکت کی۔ اس پانچ روزہ علمی و تعلیمی ورکشاپ اور مختلف سکولز و تعلیمی اداروں کے وزٹ کی تفصیل آئندہ شمارہ میں شائع کی جائے گی جو وہاں کے مضبوط نظام تعلیم وتربیت کے حوالے سے بہت چشم کشاء ہوگی۔

اپنا تبصرہ بھیجیں