حضرت مولانا محمد طلحہ کاندھلوی کی جامعہ حقانیہ آمد اور ایک محفل ِعلم وسلوک کا حسین منظر

پرانی یادیں

ضبط و ترتیب : مولانا سید حبیب اللہ شاہ حقانی

١٧ اپریل ٢٠١٥ء بروز منگل شیخ الحدیث حضرت مولانا محمد زکریا کے خلف الرشید شیخ الحدیث حضرت مولانا محمد طلحہ کاندھلوی دارالعلوم حقانیہ تشریف لائے تھے،جن کا شیخ الحدیث حضرت مولاناسمیع الحق شہید،اوردیگر شیوخ و اساتذہ وطلباء نے پرتپاک استقبال کیا تھا۔ذیل میں اس یادگار تقریب کی تفصیلی رپورٹ میں سے کچھ حصہ و تقاریر اختصار کے ساتھ یہاں نذر قارئین ہیں۔(ادارہ)

شیخ الحدیث مولانا سمیع الحق کے استقبالیہ کلمات
تلاوت کے بعد حضرت مولانا سمیع الحق مدظلہ نے استقبالیہ کلمات ارشاد فرمانے کیلئے مائیک تھاما، بعدازحمد وصلوٰة ارشاد فرمایا : ہمارے لئے انتہائی خوشی ،مسرت اور سعادت کا مقام ہے کہ محد ث کبیر شیخ الحدیث حضرت مولانا محمد زکریا کے جانشین اور صاحبزادے شیخ الحدیث حضرت مولانا محمد طلحہ کاندہلوی مد ظلہ دارالعلوم رونق افروز ہوئے ہیں ،آج ہمارے لئے عید کا دن ہے ،ہم اتنے خوش ہیں کہ خوشی کا اندازہ آپ نہیں لگاسکتے ۔
فیوضات شیخ الحدیث کاندھلوی
شیخ الحدیث مولانا زکریاسے ہماری خط و کتابت جاری رہتی تھی، لیکن بد قسمتی سے ان کا دورہ سرحد نہ ہوا، لاہور ،راولپنڈی ،کراچی آنا ہوتا تھا ہم بھی حاضر خدمت ہوتے تھے ۔ان کی دعائیں اور بے شمار خطوط ہمارے پاس جمع ہیں ”مکاتیب مشاہیر” میں ان کے خطوط بھی چھپے ہیں ،اب بحمد اللہ شیخ الحدیث کے فیوضات کی دنیا بھر میںاشاعت ہورہی ہے،سینکڑوں زبانوں میں انکی کتابوںفضائل اعمال وغیرہ کے تراجم ہوئے، تقریباًہر مسجد میںلوگ روزانہ ان کی فیوضات سے بہرہ ورہوتے ہیں اس تمام تبلیغی نصاب اورفیوضات کا سر چشمہ حضرت شیخ الحدیث کاندھلوی کی ذات اقدس ہے ، آج ہمارے لئے انتہائی خوشی اور مسرت کی بات ہے کہ حضرت شیخ الحدیث کے صاحبزادے راولپنڈی تشریف لائے میں نے مولانا سے درخواست کی کہ اکوڑہ خٹک تشریف لائیں آپ کے ملک بھر میں پہلے سے طے شدہ پراگرام تھے ،آج مولانا عزیز الرحمن ہزاروی نے خوشخبری سنائی کہ حضرت نے سارے پروگرام چھوڑے اور دارالعلوم تشریف لارہے ہیں میرے پاس شکریہ کے الفاظ نہیں لیکن میں حضرت کو بتانا چاہتا ہوں کہ دارالعلوم حقانیہ خالصتاً دارالعلوم دیوبند ،مظاہر العلوم اور سہارنپور کا فیض ہے حکیم الاسلام مولانا قاری محمد طیب دارالعلوم حقانیہ تشریف لائے اور کئی موقعوں پر فرمایا کہ دارالعلوم حقانیہ دیوبند ثانی ہے ،بلکہ ایک موقعہ پر فرمایا : میںدارالعلوم حقانیہ کو عین دارالعلوم دیوبند سمجھتا ہوں ہمارے شیخ، شیخ الحدیث مولاناعبدالحق شیخ الاسلام مولانا حسین احمد مدنی کے اجل اور خاص تلامذہ میں سے تھے ،دارالعلوم دیوبند میں استاد تھے ، ١٩٤٧ء رمضان و شعبان کی تعطیلات میںحضرت گھر تشریف لائے تو اسی رمضان میں پاکستان بنا، فسادات شروع ہوئے ،راستے بند ہوگئے تو آٹھ دس طلباء جو دیوبند و سہارنپور میں پڑھتے تھے، حضرت کے پاس آئے کہ جب تک راستے کھلتے ہیں تو آپ ہمیں یہاں پڑھائیں ،اللہ تعالیٰ کو وہی فیض یہاں منظور تھا ،سنٹرل ایشیا ء اور افغانستان کے طلبہ یہاں پڑھنے آتے تھے اس چھوٹے سے گاؤں سے اللہ تعالیٰ نے دیوبند و سہارنپور کا فیض جاری فرمایا ،یہ آپ حضرات کی دعاؤں اور توجہات کی برکت ہے یہ اکوڑہ خٹک کی سرزمین نہایت تاریخی اہمیت کی حامل ہے سید احمد شہید اور ان کے رفقاء نے یہاں سے جہاد شروع کیا تھا اور جو جہاد انہوں نے شروع کیا تھا وہ رکا نہیں اسی جہاد کے تسلسل میں دیوبند اور سہارنپور کے علماء اور فضلاء نے انگریز سامراج کو ہندوستان سے نکالا اور دارالعلوم حقانیہ کے فضلاء اور طلباء نے پہلے روس کو شکست فاش دی اور اب امریکہ کو بھی شکست دی ،الحمدللہ تحریک طالبان افغانستان میںکثیر تعداد حقانی فضلاء کی ہے ،افغان جہاد کے بڑے بڑے زعما مولانا محمد یونس خالص اور مولانا جلال الدین حقانی وغیرہ یہیں سے پڑھے ہیں حضرت مولانا سید ابو الحسن علی ندوی نے شہدائے بالاکوٹ کی تحریک کے بارے میں تحریر فرمایا ہے کہ پانچ سو سال بعد پہلی باقاعدہ منظم جہاد تھا ،جس میں جس میں جزیہ وغیرہ سب احکام تھے ، تو میں عرض کر رہا تھاکہ سید صاحب نے جہاد کا آغاز یہیں سے کیا تھا پھر دریا کے پار معیار کے ایک جنگ لڑی گئی جس میں سید ا لطائفة مولانا امداداللہ مہاجر مکی کے دادا پیر (مولانا نور محمدجنجانوی کے پیر ) حضرت شاہ عبدالرحیم ولایتی بھی شہید ہوئے ظالموں نے ان شہداء میں بعض کا مثلہ بھی کیا تھا سر تن سے جد ا کئے تھے پھر ان کو ایک اجتماعی قبر میں دفن کیا گیا ان کا مزار بھی یہیں ہمارے قریب مردان میں ہے یہ انہی شہداء کی خون کی برکت ہے کہ روس سوویت یونین اور امریکہ و نیٹو کو شکست ہوگئی ،ان شاء اللہ یہ خون رائیگاں نہیں جائے گا ،اسی کی برکت سے اسلامی نظام کا پرچم بھی لہرا یا جائے گا۔
دارالعلوم حقانیہ دارالعلوم دیوبند کی اولاد ہے ،ہم آپکے انتہائی ممنونِ احسان اور شکرگزار ہیں کہ دارالعلوم کو قدوم میمنت کے لزوم سے نوازا ۔
شیخ الحدیث حضرت مولانا ڈاکٹر شیر علی شاہ مد ظلہ کا خطاب
حضرت مولانا یوسف شاہ حقانی نے مائیک شیخ الحدیث حضرت مولانا ڈاکٹر شیر علی شاہ المدنی مد ظلہ کو دیا حضرت شیخ الحدیث نے حمد وصلوٰة کے بعد فرمایا : میں تو اس قابل نہیں ہوں کہ اتنے عظیم بزرگوں اور اولیاء ،قطب الاقطاب کے سامنے لب کشائی کروں ، آپ یقین جانیں مجھے اتنی خوشی اور فرحت نصیب ہوئی کہ بیان نہیں کرسکتا ،اللہ تعالیٰ نے ہمارے دارالعلوم حقانیہ کو اسی خصوصیت سے نوازا ہے کہ بڑے بڑے اکابر زعماء یہاں تشریف لاتے ہیں ،میرے پاس الفاظ نہیں کہ ان حضرات بالخصوص حضرت مولانا محمد طلحہ صاحب کا شکریہ ادا کروں ،یہ شیخ الحدیث مولانا زکریا کی نشانی ہیں ،مجھے بھی بحمد اللہ پندرہ ،سولہ سال حضرت شیخ الحدیث کی زیارت نصیب ہوئی ہے ،حضرت شیخ الحدیث کے مجلس میں بڑے بڑے علماء شریک ہوتے ،جیسے حضرت بنوری ،حضرت درخواستی ،شیخ القرآن حضرت مولانا غلام اللہ خان ،مفتی محمود اور حضرت مولانا غلام غوث ہزاروی یہ سب جب مدینہ منورہ تشریف لاتے تو ان کے ساتھ میں بھی حضرت شیخ الحدیث کی مجلس میں حاضرہوتا تھا حضرت شیخ الحدیث کا چہرہ روحانی اور درخشندہ تھا ،اللہ تعالیٰ نے بہت بڑا رعب دیا تھا ۔
سعودی حکمران (آل ِسعود) بھی حضرت شیخ الحدیث کی زیارت کے لئے آتے تھے ،شیخ عبد العزیز بن باز اور ابو بکر الجزائری جو کہ بہت بڑے واعظ تھے تبلیغی جماعت کی حمایت کرتے تھے ۔
اکابرین دیوبند کے عالم اسلام پر بہت بڑے بڑے احسانات ہیں علمی، تحقیقی جہادی جو بھی میدان ہو علمائے دیوبند سب سے آگے ہیں ، اپنے اکابر کی سوانح دیکھا کریں جو بزبان حال گویا ہے ۔
تلک آثارنا تدل علینا فانظروا بعدنا الاثار
کچھ ساتھیوں کے ہمراہ دیوبند، بستی نظام الدین اور سہارنپور جانا ہوا تو حیران ہوئے کہ حضرت مولانا الیاس اور مولانا زکریا نے اتنے معمولی اور مختصر گھر سے کتنا بڑا کا م کیا
فشرقھا فلیس للشرقھا مغرب وغربھا فلیس للغرب مشرق
یہ اخلاص کی برکتیں ہیں ،میں اللہ تعالیٰ سے دعا کرتا ہوں کہ ان حضرات کی آمد کو قبول فرمائے ، سب حضرات کو دنیاو آخرت کی خوشیاں نصیب فرمائے ،سب کو آقا ا کے جھنڈے (لواء الحمد)کے تحت اپنے اکابر ، مشائخ ،اساتذہ اور والدین اور شتہ داروں کی معیت میں جگہ دیں اور آقا ا کی شفاعت سے سرفراز کرتے ہوئے آقا ا کے دست اقدس سے حوض کوثر نصیب فرمائے ۔
شیخ الحدیث مولانا ڈاکٹر شیر علی شاہ کے بیان کے بعد مولانا یوسف شاہ نے کہا کہ اب میں مصنف کتب کثیرہ ، شارح صحیح مسلم حضرت مولانا عبد القیوم حقانی کو دعوت دیتا ہوں کہ خطاب کے لئے تشریف لائیں۔
پیر طریقت حضرت مولانا عزیز الرحمن ہزاروی کا خطاب
پیر طریقت حضرت مولانا عزیز الرحمن ہزاروی نے بعد از حمد وصلوٰةفرمایا: حضرات علماء اور طلباء ! آپ کو معلوم ہے کہ یہ مہمان ہندوستان سہارنپور سے تشریف لائے ہیں ،نہایت معززا ور نازک مہمان ہیں، ریحانة الہند شیخ الحدیث حضرت مولانا محمد زکریا کے فرزند ارجمند ہیں اور یہ پیدائشی ولی اللہ ہیں ،آپ حضرات سے گزارش ہے کی ادب کا دامن ہاتھ سے نہ چھوٹنے پائے ،ہمارے اکابر ہمیں ادب سکھاتے، میں بھی دارالعلوم کا خادم ہوں یہاں پڑھا ہوں ،جب کوئی بزرگ تشریف لاتا تو حضرت شیخ الحدیث فرماتے کہ ادب کرنا ہے تو ہم انتہائی احترام کرتے ،یہ ادب نہیں کہ بزرگ پریشان ہوجا ئیں ،یہ زیارت بڑی سعادت ہے ،اس وقت صرف زیارت کریں اور درود شریف پڑھا کریں ، دارالعلوم حقانیہ ایک روشن نام ہے آپ نے ان کو مزید روشن کرنا ہے ، ادب کا مظاہرہ کریں کہ یہ علماء جاکر وہاں ادب و احترام کا تذکرہ کریں ،بس آپ کا کام درود شریف پڑھنا اور حضرت کا دیدار ہے ،حضرت کی نظرتم پر پڑے گی اور بیعت اور احادیث کی اجازت بھی دیں گے۔ان شاء اللہ۔
حضرت ہزاروی کی تقریر وہدایات کے بعد تلاوت قرآن کیلئے دورہ حدیث کے طالب علم کو دعوت دی گئی ۔
حضرت مولانا عبد الحفیظ مکی دعائیہ کلمات
حضرت مولانا محمد یوسف شاہ حقانی نے پیر طریقت حضرت مولانا عبد الحفیظ مکی مد ظلہ کو دعوت خطاب دی ،پہلے تو آپ معذرت کرتے رہے مگر حاضرین کے اصرار پر چند دعائیہ کلمات ارشاد فرمائے، فرمایا: اللہ تعالیٰ دارالعلوم حقانیہ کو تا صبح قیامت قائم رکھے اور اکابر اسے دیوبند ثانی کہتے رہے توا للہ تعالیٰ اس کے فیض کواور بھی عام وتام فرمائے ،حضرت مولانا سمیع الحق اور دیگر اکابرین کا سایہ امت کے سروں پر تا دیر قائم رکھے ۔آمین ، اسکے بعد پیر طریقت حضرت مولانا مفتی مختار الدین شاہ کو دعوت دی گئی مگر انہوں نے فرمایا کہ اتنے بڑے بڑے اکابراور مشائخ موجود ہیں ان کے سامنے بولنا بے ادبی ہے۔
حضرت مولانا محمد طلحہ کاندھلوی مدظلہ کا خطاب
چنانچہ میر مجلس شیخ الحدیث حضرت مولانا محمد طلحہ کو دعوت دی گئی آپ نے بغیر کسی تمہید کے فرمایا : اتنے بڑے بڑے مشائخ میں میں کیا عرض کروں بس اپنے مشائخ اور اساتذہ کا ذکر کروں گا (درخواست کی گئی کہ اجتماعی بیعت اور اجازت حدیث سے نوازیں) توبیعت کے کلمات ارشاد فرمائیں اور فرمایا: کہ معمولات کاپرچہ یہاں منگوائیں اور یہاں چھپوائیں تاکہ یہ لوگ محروم نہ ہوں اللہ تعالیٰ سب حضرات کو علم نافع نصیب فرمائیں۔
فرمایا: میرا بچپن سہارن پور اور نظام الدین دونوں میں گزرا ہے چونکہ والد سہارنپور میں ہوتے تھے اور ننھیال نظام الدین میں ،مولانا الیاس کو میں نے نہیں دیکھا مگر انہوں نے مجھے دیکھا ہے،میں چھوٹا تھا شعور نہیں تھا مگر انہوں نے اپنے نواسے ہونے کی وجہ سے بہت پیار اور شفقت فرماتے میری والدہ کو بلاتے کہ بیٹی ! رات کو تو اس بچے کی وجہ سے نہیں سوئی کیونکہ یہ تیرا بچہ ہے اور میں تیری جاگنے کی وجہ سے جاگتا ہوں ظہر کے بعد میرا سبق ہے تو تم سوجاو اور بچہ مجھے دو میرا بچپن اسی طرح گزرا ہے ۔
فرمایا: میں نے درس نظامی کاشف العلوم سہارنپور میں پڑھا ہے یہاں تبلیغ کا انہماک تھا فرمایا مجھے اپنا بچپن یاد ہے حضرت رائے پوری مجھے بیعت کرنا چاہتے تھے میرے استاد تھے ، مولانا عبد المنان ان کا تعلق بھی حضرت مولانا عبد القادر رائے پور سے تھا ،حضرت رائے پوری بہت مشکل بیعت کراتے تھے ، چنانچہ اسی وقت میں بیعت نہیں ہوا ،مولانا عبدالمنان سے یہ واقعہ عرض کیا تو آپ نے فرمایا: بیعت کیوں نہیں ہوئے ،میں نے کہا: اب تک آپ سے پوچھے کوئی کام نہ کیا تو اتنا بڑا کام کیسے کرتا ، استاذ نے فرمایا کہ حضرت رائے پوری سے میں بھی بیعت ہوں گا ،چنانچہ ان حضرات کے ساتھ میں بھی بیعت ہوا، اور اس دن بہت سے مجاذیب بھی بیعت ہوئے پھر اللہ تعالیٰ نے سلوک طے کرایا۔
فرمایا : تعلیم کے ساتھ تصوف و سلوک میں نہیں لگنا چاہئے تعلیم کیلئے یکسوئی ضروری ہے فرمایا بعض طلبہ پڑھنے میں غفلت کرتے ہیں وقت ضائع کرتے ہیں پھر فراغت کے بعد کف افسوس ملتے ہیں مگر ہاتھ کچھ نہیں آتا ،اسلئے توجہ اور یکسوئی سے پڑھو فراغت کے بعد تبلیغ میں سال لگائیں جیسے تعلیم میں انحطاط آرہا ہے اسی طرح تبلیغ میں انحطاط آرہا ہے مولانا الیاس اور مولانا یوسف کے ملفوظات اور تقاریر پڑھیں ، مواد مختصر مگر نافع ہیں جتنی محنت کروگے اتنی سہولت ملیگی اور جتنی لاپرواہی سے پڑھو گے تو ہاتھ کچھ نہیں آئیگا ۔
فرمایا: بدنظری ایک تباہ کن بیماری ہے اس سے بچئے ”بدنظری کا علاج”کتاب ضرور پڑھیں استغفار کی کثرت کریں سبق کا ناغہ نہیں ہونا چاہئے ۔اجازت حدیث دیتے ہوئے فرمایا : میں نے حدیث کی کتابیں مولانا یوسف ، مولانا انعام الحسن ،مولانا عبید اللہ ،مولانا منیر الدین یہ استاد الکل تھے ان سے زیادہ کتابیں پڑھی ہیں اور مولانا یعقوب سہارنپوری سے ان سب حضرات سے مجھے جو اجازت حاصل ہے اسی سند کیساتھ آپکو بھی اجازت ہے۔ فرمایا: ہم نے دوسال میں دورہ حدیث پڑھا ہے اس وقت دورہ حدیث دو سال میں ہوتا تھا ، حضرت نے بہت لمبی دعا کے ساتھ اپنی تقریر ختم کی ،حضرت کے تقریر میں دو اہم باتیں رونما ہوئیں ۔
(١) ایک طالب نے حضرت کے خطاب کے دوران ان کی تصویر کھینچی ،حضرت کی آنکھیں بند تھی لیکن جیسے ہی تصویر کھینچی گئی تو بہت غصہ ہوئے ،طالبعلم سے موبائل چھیناگیا اور جو تصاویر کھنچیں تھی وہ مٹادی گئی ،فرمایا شرم نہیں آتی حرام کام کرتے ہو ئے ؟
(٢) ایک طالبعلم نے پسینہ صاف کرنے کیلئے ٹیشو پیپر پیش کیا اس سے بھی سخت ناراض ہوئے کہ یہ کیا بات ہے ؟ کہ انگریزوں کی طرف سے جو بھی چیز ہمارے پاس آتی ہے ہم اسے اندھا دھند قبول کرتے ہیں ۔
مسجد کے سنگ ِبنیاد کامنظر
دارالحدیث (ایواان شریعت ہال)سے طلبہ زیر تعمیر جامع مسجد شیخ الحدیث تک دو رویہ کھڑے ہوئے درمیان میں حضرات مشائخ گذرتے ہوئے زیر تعمیر جامع مسجد تک پہنچے ،جہاں حضرت مولانا محمد طلحہ کاندھلوی مدظلہم اور دیگر مشائخ نے اپنے دست مبارک سے اینٹیں رکھیں ،پھر انہوںنے اپنے جیب سے ٥٠٠ ریال مسجد کے چندہ میں دئے ،اور وہاں سے مولانا سمیع الحق کی رہائش گاہ کی طرف روانہ ہوئے ،تو راستے میں مولانا راشد الحق سمیع ایڈیٹر ”ماہنامہ الحق”نے اپنے زیر تعمیر مکان کی بنیاد کے لئے حضرت سے اینٹ دم کرائی ،حضرت مولانا سمیع الحق مدظلہ کے رہائش گاہ میں مہمانوں کے لئے ظہرانے کا انتظام کیا گیا تھا، مشائخ یہاں جمع ہوئے ۔
حضرت کی بچوں سے شفقت اور قرآن کی تلاوت
حضرت مہتمم صاحب کے گھر پر مدیر”الحق” کے صاحبزادے محمد عمرکو سورة اخلاص پڑھائی، پھر بعد میں مولاناسلمان الحق کے صاحبزادے محمد طہٰ ،مولانا عرفان الحق کے صاحبزادے محمد معز کو بھی تلاوت کروائی، اور خاندان کے تمام بچوں کو پچاس پچاس روپے تبرکاً دئیے اور سب بچوں کے ساتھ شفقت و محبت فرمائی اور حضرت مولانا مفتی سیف اللہ کے پوتے محمد ثانی اور مولانا راشدالحق کی ایک سالہ بیٹی شفا راشد کو حضرت کاندھلوی نے دم کرایا ۔اس کے بعد خاندان حقانی کی خواتین کو پردے میں بیعت و نصیحت فرمائی۔
مزار شیخ الحدیث پر حاضری
حضرات اکابر مزار شیخ الحدیث مولانا عبد الحق کی طرف روانہ ہوئے مزار پر فاتحہ خوانی اور ایصال ثواب کیا ،اورحضرت مولانا طلحہ صاحب دیر تک مراقبہ کی حالت میں رہے …


تلاوت کے بعد حضرت مولانا سمیع الحق مدظلہ نے استقبالیہ کلمات ارشاد فرمانے کیلئے مائیک تھاما، بعدازحمد وصلوٰة ارشاد فرمایا : ہمارے لئے انتہائی خوشی ،مسرت اور سعادت کا مقام ہے کہ محد ث کبیر شیخ الحدیث حضرت مولانا محمد زکریا کے جانشین اور صاحبزادے شیخ الحدیث حضرت مولانا محمد طلحہ کاندہلوی مد ظلہ دارالعلوم رونق افروز ہوئے ہیں ،آج ہمارے لئے عید کا دن ہے ،ہم اتنے خوش ہیں کہ خوشی کا اندازہ آپ نہیں لگاسکتے ۔
فیوضات شیخ الحدیث کاندھلوی
شیخ الحدیث مولانا زکریاسے ہماری خط و کتابت جاری رہتی تھی، لیکن بد قسمتی سے ان کا دورہ سرحد نہ ہوا، لاہور ،راولپنڈی ،کراچی آنا ہوتا تھا ہم بھی حاضر خدمت ہوتے تھے ۔ان کی دعائیں اور بے شمار خطوط ہمارے پاس جمع ہیں ”مکاتیب مشاہیر” میں ان کے خطوط بھی چھپے ہیں ،اب بحمد اللہ شیخ الحدیث کے فیوضات کی دنیا بھر میںاشاعت ہورہی ہے،سینکڑوں زبانوں میں انکی کتابوںفضائل اعمال وغیرہ کے تراجم ہوئے، تقریباًہر مسجد میںلوگ روزانہ ان کی فیوضات سے بہرہ ورہوتے ہیں اس تمام تبلیغی نصاب اورفیوضات کا سر چشمہ حضرت شیخ الحدیث کاندھلوی کی ذات اقدس ہے ، آج ہمارے لئے انتہائی خوشی اور مسرت کی بات ہے کہ حضرت شیخ الحدیث کے صاحبزادے راولپنڈی تشریف لائے میں نے مولانا سے درخواست کی کہ اکوڑہ خٹک تشریف لائیں آپ کے ملک بھر میں پہلے سے طے شدہ پراگرام تھے ،آج مولانا عزیز الرحمن ہزاروی نے خوشخبری سنائی کہ حضرت نے سارے پروگرام چھوڑے اور دارالعلوم تشریف لارہے ہیں میرے پاس شکریہ کے الفاظ نہیں لیکن میں حضرت کو بتانا چاہتا ہوں کہ دارالعلوم حقانیہ خالصتاً دارالعلوم دیوبند ،مظاہر العلوم اور سہارنپور کا فیض ہے حکیم الاسلام مولانا قاری محمد طیب دارالعلوم حقانیہ تشریف لائے اور کئی موقعوں پر فرمایا کہ دارالعلوم حقانیہ دیوبند ثانی ہے ،بلکہ ایک موقعہ پر فرمایا : میںدارالعلوم حقانیہ کو عین دارالعلوم دیوبند سمجھتا ہوں ہمارے شیخ، شیخ الحدیث مولاناعبدالحق شیخ الاسلام مولانا حسین احمد مدنی کے اجل اور خاص تلامذہ میں سے تھے ،دارالعلوم دیوبند میں استاد تھے ، ١٩٤٧ء رمضان و شعبان کی تعطیلات میںحضرت گھر تشریف لائے تو اسی رمضان میں پاکستان بنا، فسادات شروع ہوئے ،راستے بند ہوگئے تو آٹھ دس طلباء جو دیوبند و سہارنپور میں پڑھتے تھے، حضرت کے پاس آئے کہ جب تک راستے کھلتے ہیں تو آپ ہمیں یہاں پڑھائیں ،اللہ تعالیٰ کو وہی فیض یہاں منظور تھا ،سنٹرل ایشیا ء اور افغانستان کے طلبہ یہاں پڑھنے آتے تھے اس چھوٹے سے گاؤں سے اللہ تعالیٰ نے دیوبند و سہارنپور کا فیض جاری فرمایا ،یہ آپ حضرات کی دعاؤں اور توجہات کی برکت ہے یہ اکوڑہ خٹک کی سرزمین نہایت تاریخی اہمیت کی حامل ہے سید احمد شہید اور ان کے رفقاء نے یہاں سے جہاد شروع کیا تھا اور جو جہاد انہوں نے شروع کیا تھا وہ رکا نہیں اسی جہاد کے تسلسل میں دیوبند اور سہارنپور کے علماء اور فضلاء نے انگریز سامراج کو ہندوستان سے نکالا اور دارالعلوم حقانیہ کے فضلاء اور طلباء نے پہلے روس کو شکست فاش دی اور اب امریکہ کو بھی شکست دی ،الحمدللہ تحریک طالبان افغانستان میںکثیر تعداد حقانی فضلاء کی ہے ،افغان جہاد کے بڑے بڑے زعما مولانا محمد یونس خالص اور مولانا جلال الدین حقانی وغیرہ یہیں سے پڑھے ہیں حضرت مولانا سید ابو الحسن علی ندوی نے شہدائے بالاکوٹ کی تحریک کے بارے میں تحریر فرمایا ہے کہ پانچ سو سال بعد پہلی باقاعدہ منظم جہاد تھا ،جس میں جس میں جزیہ وغیرہ سب احکام تھے ، تو میں عرض کر رہا تھاکہ سید صاحب نے جہاد کا آغاز یہیں سے کیا تھا پھر دریا کے پار معیار کے ایک جنگ لڑی گئی جس میں سید ا لطائفة مولانا امداداللہ مہاجر مکی کے دادا پیر (مولانا نور محمدجنجانوی کے پیر ) حضرت شاہ عبدالرحیم ولایتی بھی شہید ہوئے ظالموں نے ان شہداء میں بعض کا مثلہ بھی کیا تھا سر تن سے جد ا کئے تھے پھر ان کو ایک اجتماعی قبر میں دفن کیا گیا ان کا مزار بھی یہیں ہمارے قریب مردان میں ہے یہ انہی شہداء کی خون کی برکت ہے کہ روس سوویت یونین اور امریکہ و نیٹو کو شکست ہوگئی ،ان شاء اللہ یہ خون رائیگاں نہیں جائے گا ،اسی کی برکت سے اسلامی نظام کا پرچم بھی لہرا یا جائے گا۔
دارالعلوم حقانیہ دارالعلوم دیوبند کی اولاد ہے ،ہم آپکے انتہائی ممنونِ احسان اور شکرگزار ہیں کہ دارالعلوم کو قدوم میمنت کے لزوم سے نوازا ۔
شیخ الحدیث حضرت مولانا ڈاکٹر شیر علی شاہ مد ظلہ کا خطاب
حضرت مولانا یوسف شاہ حقانی نے مائیک شیخ الحدیث حضرت مولانا ڈاکٹر شیر علی شاہ المدنی مد ظلہ کو دیا حضرت شیخ الحدیث نے حمد وصلوٰة کے بعد فرمایا : میں تو اس قابل نہیں ہوں کہ اتنے عظیم بزرگوں اور اولیاء ،قطب الاقطاب کے سامنے لب کشائی کروں ، آپ یقین جانیں مجھے اتنی خوشی اور فرحت نصیب ہوئی کہ بیان نہیں کرسکتا ،اللہ تعالیٰ نے ہمارے دارالعلوم حقانیہ کو اسی خصوصیت سے نوازا ہے کہ بڑے بڑے اکابر زعماء یہاں تشریف لاتے ہیں ،میرے پاس الفاظ نہیں کہ ان حضرات بالخصوص حضرت مولانا محمد طلحہ صاحب کا شکریہ ادا کروں ،یہ شیخ الحدیث مولانا زکریا کی نشانی ہیں ،مجھے بھی بحمد اللہ پندرہ ،سولہ سال حضرت شیخ الحدیث کی زیارت نصیب ہوئی ہے ،حضرت شیخ الحدیث کے مجلس میں بڑے بڑے علماء شریک ہوتے ،جیسے حضرت بنوری ،حضرت درخواستی ،شیخ القرآن حضرت مولانا غلام اللہ خان ،مفتی محمود اور حضرت مولانا غلام غوث ہزاروی یہ سب جب مدینہ منورہ تشریف لاتے تو ان کے ساتھ میں بھی حضرت شیخ الحدیث کی مجلس میں حاضرہوتا تھا حضرت شیخ الحدیث کا چہرہ روحانی اور درخشندہ تھا ،اللہ تعالیٰ نے بہت بڑا رعب دیا تھا ۔
سعودی حکمران (آل ِسعود) بھی حضرت شیخ الحدیث کی زیارت کے لئے آتے تھے ،شیخ عبد العزیز بن باز اور ابو بکر الجزائری جو کہ بہت بڑے واعظ تھے تبلیغی جماعت کی حمایت کرتے تھے ۔
اکابرین دیوبند کے عالم اسلام پر بہت بڑے بڑے احسانات ہیں علمی، تحقیقی جہادی جو بھی میدان ہو علمائے دیوبند سب سے آگے ہیں ، اپنے اکابر کی سوانح دیکھا کریں جو بزبان حال گویا ہے ۔
تلک آثارنا تدل علینا فانظروا بعدنا الاثار
کچھ ساتھیوں کے ہمراہ دیوبند، بستی نظام الدین اور سہارنپور جانا ہوا تو حیران ہوئے کہ حضرت مولانا الیاس اور مولانا زکریا نے اتنے معمولی اور مختصر گھر سے کتنا بڑا کا م کیا
فشرقھا فلیس للشرقھا مغرب وغربھا فلیس للغرب مشرق
یہ اخلاص کی برکتیں ہیں ،میں اللہ تعالیٰ سے دعا کرتا ہوں کہ ان حضرات کی آمد کو قبول فرمائے ، سب حضرات کو دنیاو آخرت کی خوشیاں نصیب فرمائے ،سب کو آقا ا کے جھنڈے (لواء الحمد)کے تحت اپنے اکابر ، مشائخ ،اساتذہ اور والدین اور شتہ داروں کی معیت میں جگہ دیں اور آقا ا کی شفاعت سے سرفراز کرتے ہوئے آقا ا کے دست اقدس سے حوض کوثر نصیب فرمائے ۔
شیخ الحدیث مولانا ڈاکٹر شیر علی شاہ کے بیان کے بعد مولانا یوسف شاہ نے کہا کہ اب میں مصنف کتب کثیرہ ، شارح صحیح مسلم حضرت مولانا عبد القیوم حقانی کو دعوت دیتا ہوں کہ خطاب کے لئے تشریف لائیں۔
پیر طریقت حضرت مولانا عزیز الرحمن ہزاروی کا خطاب
پیر طریقت حضرت مولانا عزیز الرحمن ہزاروی نے بعد از حمد وصلوٰةفرمایا: حضرات علماء اور طلباء ! آپ کو معلوم ہے کہ یہ مہمان ہندوستان سہارنپور سے تشریف لائے ہیں ،نہایت معززا ور نازک مہمان ہیں، ریحانة الہند شیخ الحدیث حضرت مولانا محمد زکریا کے فرزند ارجمند ہیں اور یہ پیدائشی ولی اللہ ہیں ،آپ حضرات سے گزارش ہے کی ادب کا دامن ہاتھ سے نہ چھوٹنے پائے ،ہمارے اکابر ہمیں ادب سکھاتے، میں بھی دارالعلوم کا خادم ہوں یہاں پڑھا ہوں ،جب کوئی بزرگ تشریف لاتا تو حضرت شیخ الحدیث فرماتے کہ ادب کرنا ہے تو ہم انتہائی احترام کرتے ،یہ ادب نہیں کہ بزرگ پریشان ہوجا ئیں ،یہ زیارت بڑی سعادت ہے ،اس وقت صرف زیارت کریں اور درود شریف پڑھا کریں ، دارالعلوم حقانیہ ایک روشن نام ہے آپ نے ان کو مزید روشن کرنا ہے ، ادب کا مظاہرہ کریں کہ یہ علماء جاکر وہاں ادب و احترام کا تذکرہ کریں ،بس آپ کا کام درود شریف پڑھنا اور حضرت کا دیدار ہے ،حضرت کی نظرتم پر پڑے گی اور بیعت اور احادیث کی اجازت بھی دیں گے۔ان شاء اللہ۔
حضرت ہزاروی کی تقریر وہدایات کے بعد تلاوت قرآن کیلئے دورہ حدیث کے طالب علم کو دعوت دی گئی ۔
حضرت مولانا عبد الحفیظ مکی دعائیہ کلمات
حضرت مولانا محمد یوسف شاہ حقانی نے پیر طریقت حضرت مولانا عبد الحفیظ مکی مد ظلہ کو دعوت خطاب دی ،پہلے تو آپ معذرت کرتے رہے مگر حاضرین کے اصرار پر چند دعائیہ کلمات ارشاد فرمائے، فرمایا: اللہ تعالیٰ دارالعلوم حقانیہ کو تا صبح قیامت قائم رکھے اور اکابر اسے دیوبند ثانی کہتے رہے توا للہ تعالیٰ اس کے فیض کواور بھی عام وتام فرمائے ،حضرت مولانا سمیع الحق اور دیگر اکابرین کا سایہ امت کے سروں پر تا دیر قائم رکھے ۔آمین ، اسکے بعد پیر طریقت حضرت مولانا مفتی مختار الدین شاہ کو دعوت دی گئی مگر انہوں نے فرمایا کہ اتنے بڑے بڑے اکابراور مشائخ موجود ہیں ان کے سامنے بولنا بے ادبی ہے۔
حضرت مولانا محمد طلحہ کاندھلوی مدظلہ کا خطاب
چنانچہ میر مجلس شیخ الحدیث حضرت مولانا محمد طلحہ کو دعوت دی گئی آپ نے بغیر کسی تمہید کے فرمایا : اتنے بڑے بڑے مشائخ میں میں کیا عرض کروں بس اپنے مشائخ اور اساتذہ کا ذکر کروں گا (درخواست کی گئی کہ اجتماعی بیعت اور اجازت حدیث سے نوازیں) توبیعت کے کلمات ارشاد فرمائیں اور فرمایا: کہ معمولات کاپرچہ یہاں منگوائیں اور یہاں چھپوائیں تاکہ یہ لوگ محروم نہ ہوں اللہ تعالیٰ سب حضرات کو علم نافع نصیب فرمائیں۔
فرمایا: میرا بچپن سہارن پور اور نظام الدین دونوں میں گزرا ہے چونکہ والد سہارنپور میں ہوتے تھے اور ننھیال نظام الدین میں ،مولانا الیاس کو میں نے نہیں دیکھا مگر انہوں نے مجھے دیکھا ہے،میں چھوٹا تھا شعور نہیں تھا مگر انہوں نے اپنے نواسے ہونے کی وجہ سے بہت پیار اور شفقت فرماتے میری والدہ کو بلاتے کہ بیٹی ! رات کو تو اس بچے کی وجہ سے نہیں سوئی کیونکہ یہ تیرا بچہ ہے اور میں تیری جاگنے کی وجہ سے جاگتا ہوں ظہر کے بعد میرا سبق ہے تو تم سوجاو اور بچہ مجھے دو میرا بچپن اسی طرح گزرا ہے ۔
فرمایا: میں نے درس نظامی کاشف العلوم سہارنپور میں پڑھا ہے یہاں تبلیغ کا انہماک تھا فرمایا مجھے اپنا بچپن یاد ہے حضرت رائے پوری مجھے بیعت کرنا چاہتے تھے میرے استاد تھے ، مولانا عبد المنان ان کا تعلق بھی حضرت مولانا عبد القادر رائے پور سے تھا ،حضرت رائے پوری بہت مشکل بیعت کراتے تھے ، چنانچہ اسی وقت میں بیعت نہیں ہوا ،مولانا عبدالمنان سے یہ واقعہ عرض کیا تو آپ نے فرمایا: بیعت کیوں نہیں ہوئے ،میں نے کہا: اب تک آپ سے پوچھے کوئی کام نہ کیا تو اتنا بڑا کام کیسے کرتا ، استاذ نے فرمایا کہ حضرت رائے پوری سے میں بھی بیعت ہوں گا ،چنانچہ ان حضرات کے ساتھ میں بھی بیعت ہوا، اور اس دن بہت سے مجاذیب بھی بیعت ہوئے پھر اللہ تعالیٰ نے سلوک طے کرایا۔
فرمایا : تعلیم کے ساتھ تصوف و سلوک میں نہیں لگنا چاہئے تعلیم کیلئے یکسوئی ضروری ہے فرمایا بعض طلبہ پڑھنے میں غفلت کرتے ہیں وقت ضائع کرتے ہیں پھر فراغت کے بعد کف افسوس ملتے ہیں مگر ہاتھ کچھ نہیں آتا ،اسلئے توجہ اور یکسوئی سے پڑھو فراغت کے بعد تبلیغ میں سال لگائیں جیسے تعلیم میں انحطاط آرہا ہے اسی طرح تبلیغ میں انحطاط آرہا ہے مولانا الیاس اور مولانا یوسف کے ملفوظات اور تقاریر پڑھیں ، مواد مختصر مگر نافع ہیں جتنی محنت کروگے اتنی سہولت ملیگی اور جتنی لاپرواہی سے پڑھو گے تو ہاتھ کچھ نہیں آئیگا ۔
فرمایا: بدنظری ایک تباہ کن بیماری ہے اس سے بچئے ”بدنظری کا علاج”کتاب ضرور پڑھیں استغفار کی کثرت کریں سبق کا ناغہ نہیں ہونا چاہئے ۔اجازت حدیث دیتے ہوئے فرمایا : میں نے حدیث کی کتابیں مولانا یوسف ، مولانا انعام الحسن ،مولانا عبید اللہ ،مولانا منیر الدین یہ استاد الکل تھے ان سے زیادہ کتابیں پڑھی ہیں اور مولانا یعقوب سہارنپوری سے ان سب حضرات سے مجھے جو اجازت حاصل ہے اسی سند کیساتھ آپکو بھی اجازت ہے۔ فرمایا: ہم نے دوسال میں دورہ حدیث پڑھا ہے اس وقت دورہ حدیث دو سال میں ہوتا تھا ، حضرت نے بہت لمبی دعا کے ساتھ اپنی تقریر ختم کی ،حضرت کے تقریر میں دو اہم باتیں رونما ہوئیں ۔
(١) ایک طالب نے حضرت کے خطاب کے دوران ان کی تصویر کھینچی ،حضرت کی آنکھیں بند تھی لیکن جیسے ہی تصویر کھینچی گئی تو بہت غصہ ہوئے ،طالبعلم سے موبائل چھیناگیا اور جو تصاویر کھنچیں تھی وہ مٹادی گئی ،فرمایا شرم نہیں آتی حرام کام کرتے ہو ئے ؟
(٢) ایک طالبعلم نے پسینہ صاف کرنے کیلئے ٹیشو پیپر پیش کیا اس سے بھی سخت ناراض ہوئے کہ یہ کیا بات ہے ؟ کہ انگریزوں کی طرف سے جو بھی چیز ہمارے پاس آتی ہے ہم اسے اندھا دھند قبول کرتے ہیں ۔
مسجد کے سنگ ِبنیاد کامنظر
دارالحدیث (ایواان شریعت ہال)سے طلبہ زیر تعمیر جامع مسجد شیخ الحدیث تک دو رویہ کھڑے ہوئے درمیان میں حضرات مشائخ گذرتے ہوئے زیر تعمیر جامع مسجد تک پہنچے ،جہاں حضرت مولانا محمد طلحہ کاندھلوی مدظلہم اور دیگر مشائخ نے اپنے دست مبارک سے اینٹیں رکھیں ،پھر انہوںنے اپنے جیب سے ٥٠٠ ریال مسجد کے چندہ میں دئے ،اور وہاں سے مولانا سمیع الحق کی رہائش گاہ کی طرف روانہ ہوئے ،تو راستے میں مولانا راشد الحق سمیع ایڈیٹر ”ماہنامہ الحق”نے اپنے زیر تعمیر مکان کی بنیاد کے لئے حضرت سے اینٹ دم کرائی ،حضرت مولانا سمیع الحق مدظلہ کے رہائش گاہ میں مہمانوں کے لئے ظہرانے کا انتظام کیا گیا تھا، مشائخ یہاں جمع ہوئے ۔
حضرت کی بچوں سے شفقت اور قرآن کی تلاوت
حضرت مہتمم صاحب کے گھر پر مدیر”الحق” کے صاحبزادے محمد عمرکو سورة اخلاص پڑھائی، پھر بعد میں مولاناسلمان الحق کے صاحبزادے محمد طہٰ ،مولانا عرفان الحق کے صاحبزادے محمد معز کو بھی تلاوت کروائی، اور خاندان کے تمام بچوں کو پچاس پچاس روپے تبرکاً دئیے اور سب بچوں کے ساتھ شفقت و محبت فرمائی اور حضرت مولانا مفتی سیف اللہ کے پوتے محمد ثانی اور مولانا راشدالحق کی ایک سالہ بیٹی شفا راشد کو حضرت کاندھلوی نے دم کرایا ۔اس کے بعد خاندان حقانی کی خواتین کو پردے میں بیعت و نصیحت فرمائی۔
مزار شیخ الحدیث پر حاضری
حضرات اکابر مزار شیخ الحدیث مولانا عبد الحق کی طرف روانہ ہوئے مزار پر فاتحہ خوانی اور ایصال ثواب کیا ،اورحضرت مولانا طلحہ صاحب دیر تک مراقبہ کی حالت میں رہے …

حضرت مولانا محمد طلحہ کاندھلوی کی جامعہ حقانیہ آمد اور ایک محفل ِعلم وسلوک کا حسین منظر” ایک تبصرہ

اپنا تبصرہ بھیجیں